ANPAPCموضوع: پاکستان چین اقتصادی کاریڈور  کے روٹ میں مبینہ تبدیلی

ہم آل پارٹیز کانفرنس کے شرکاء جو 17 فروری 2015ء کو اسلام آباد میں منعقد ہورہی ہے، پاکستان اور ہمارے عظیم ہمسایہ اور دوست چین کے درمیان اقتصادی تعاون میں اضافے پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔  بالخصوص ہم پاکستان چین اقتصادی کاریڈور کا خیر مقدم کرتے ہیں جو خطے میں اقتصادی تعاون بڑھانے میں ایک سنہری باب ثابت ہوگا۔ ہم اس میگا پروجیکٹ کی  مستعدی کے ساتھ بروقت تکمیل کی مکمل حمایت کرتے ہیں، کیونکہ یہ ایک ایسے خطے میں علاقائی تعاون بڑھانے میں ایک گیم چینجر ثابت ہوسکتا ہے جو دنیا کے دوسرے خطوں کی نسبت علاقائی تعاون میں نسبتا پسماندہ ہے۔ ہم عوامی جمہوریہ چین کے محترم صدر صاحب کے مستقبل قریب میں دورہ پاکستان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

ہمیں اس بات پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں کہ پلاننگ کمیشن اف پاکستان نے ا بتدائی طور پر کم فاصلے  اور کم اخراجات والے روٹ کا انتخاب کیا تھا۔ جو خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع سے گزر کر بلوچستان میں داخل ہوتا ہے اور کوئیٹہ سے گذرتے ہوئے گوادر پہنچتا ہے۔ لیکن حالیہ دنوں میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مرکزی حکومت نے اپنے خیالات میں تبدیلی کی ہے۔ نئی دلیل یہ سامنے آئی ہے کہ چونکہ پرانے روٹ کی تعمیر پر بہت وقت لگے گا، اس لئے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ سڑکوں کے پہلے سے موجود نظام کے اندر کچھ خالی جگہوں کو پر کرنے کے بعد فی الحال انہی کو گوادر تک رسائی کیلئے استعمال کیا جائے۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں، مجوزہ اقتصادی کاریڈور صرف ایک بڑی سڑک کا نام نہیں ہے۔ اس میں ریلوے لائن، تیل اور گیس کے پائیپ لائن، فائیبر اپٹیک کیبل، انرجی پراجیکٹس اور اقتصادی پارک بھی شامل ہیں۔ ظاہر ہے کہ اتنے بڑے انفراسٹرکچر اور پراجیکٹ کی تعمیر دوبار نہیں ہوسکتی۔ ہم یہ بات کھل کر کہنا چاہتے ہیں کہ ہم اضافی سڑکوں اور لنک روڈوں کی تعمیر کے ہرگز خلاف نہیں ہیں لیکن ایسا پرانے بنیادی روٹ کی قیمت پر نہیں ہونا چاہئے۔  کیونکہ یہ بہت پسماندہ علاقہ ہے اور اسے دہشت گردی سے بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ جس کی تلافی اقتصادی کوریڈور کی تعمیر سے کی جاسکتی ہے اور جس سے انتہا پسندی اور دہشت گردی کو شکست دی جاسکتی ہے۔

ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ پلاننگ کمیشن اف پاکستان نے جو پہلے روٹ چنا تھا، اس کی تعمیر فوری طور  اورجنگی بنیادوں پر  شروع کی جائے اور باقی سڑکوں اور لنک روڈز کی تعمیر بعد میں جائے۔ اگر وفاقی حکومت پرانے روٹ کے بارے میں اپنے وعدے سے پیچھے ہٹتی ہے تو اس سے فاٹا، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں گہرا احساس محرومی اور احساس منافرت پیدا ہوگا۔ ہم اس سلسلے میں مرکزی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اقتصادی کاریڈور کے روٹ کے بارے میں ہر قسم کے ابہام کو دور کرکے واضح پالیسی اختیار کرے اور عوام کو کہانیاں سنانا بند کردے۔

ہم مزید سڑکیں بنانے کے خلاف نہیں ہیں لیکن یہ کام بعد میں ہونا چاہیئے اور سڑکوں میں مالاکنڈ ڈویژن کے این-45  کو متبادل راستے کے طور پر تعمیر کیا جاسکتا ہے، جو چکدرہ اور لواری ٹنل سے ہوکر چترال پہنچتا ہے۔ چونکہ گوادر کی بندرگاہ بلوچستان میں ہے اس لئے گوادر اور بلوچستان کے عوام کی رائے کو اہمیت دی جائے۔ اس منصوبے میں بلوچ عوام کا نظر انداز کیا جانا بالکل ایسے ہے جیسے شیکسپئر کے ڈرامے ہملٹ کو شہزادہ ڈنمارک کے بغیر کھیلا جائے۔ آل پارٹیز کانفرنس نے فیصلہ کیا ہے کہ اصل منظور شدہ روٹ کو بحال کرنے کیلئے ہر راست اقدام کرے گی اور پہلے مرحلے میں ایک پارلیمانی کاکس کو تشکیل کرے گی جو پارلیمان کی سطح پر مناسب قدم اٹھائے گی۔