25.11.2015

وزیر اعظم سے ملاقات میں پاک افغان تعلقات ، اکنامک کاریڈور اور فاٹا کے ایشوز پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا ’ اسفندیار ولی خان کی اسلام آباد میں پریس کانفرنس
افغان حکومت کی خصوصی دعوت پر کل کابل جا رہا ہوں ، پاک افغان تعلقات کی بحالی ناگزیر ہے۔
وزیر اعظم کو بتا دیا ہے کہ اکنامک کاریڈور کا مغربی روٹ اور انڈسٹریل زونز کا قیام سودمند اور لازمی ہے۔
چین کو جو مسئلہ سنکیانگ اور تربت میں درپیش ہے اُس مسئلے کا ہم فاٹا اور بلوچستان میں سامنا کر رہے ہیں۔
* وزیر اعظم کو بتا دیا ہے کہ ہم آئی ڈی پیز کی بحالی اور واپسی کی رفتار سے قطعاً مطمئن نہیں ہیں۔
اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بات کرنے کا جواب غداری کے فتوے کی شکل میں آجاتا ہے یہ ہماری روایت رہی ہے۔
غداری کے الزامات یا دبانے سے اپنی سیاست اور مؤقف تبدیل نہیں کروں گا۔
* دورہ افغانستان کے دوران کوشش ہو گی کہ دونوں ممالک کا تناؤ کم ہو۔افغان حکومت یہ ضروری پوچھے گی کہ دیر کی جو لاشیں گئی ہیں وہ لوگ کیا کرنے آئے تھے۔
سینیٹر ستارہ ایاز پر جتنی رقم کے کرپشن کے الزام لگایا گیا ہے اُتنا اس کی وزارت کا بجٹ نہیں تھا۔
نیشنل ایکشن پلان پر اس کے اعلان اور ہماری توقعات کے مطابق عمل درآمد نہیں ہو رہا۔

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سربراہ اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ اُنہوں نے وزیر اعظم میاں نواز شریف کے ساتھ ہونے والی حالیہ ملاقات کے دوران پاک افغان تعلقات ، دہشتگردی ، اکنامک کاریڈور ، فاٹا کے مسائل اور نیشنل ایکشن پلان سمیت متعدد دیگر ایشوز پر تفصیلی تبادلہ خیال کر کے ان کو اپنے خدشات اور تجاویز سے آگاہ کیا اور ان پر واضح کیا کہ ملک کو درپیش سنگین چیلینجز سے نمٹنے کیلئے فوری اور یقینی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔
اسلام آباد میں ایک پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات اور اعتماد سازی کی بحالی کے بغیر خطے اور دونوں ممالک میں امن ناممکن ہے اس لیے دونوں ممالک کی اعلیٰ ترین سیاسی اور عسکری قیادت کو بیٹھ کر مسائل کا حل نکالنا چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کے بعض دیگر رہنماؤں کے ساتھ افغان حکومت کی خصوصی دعوت پر کل کابل جا رہے ہیں جہاں ان کی کوشش ہوگی کہ دونوں ممالک کے درمیان موجود فاصلوں ، کشیدگی اور تناؤ کو کم کیا جائے۔ ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نے کہا کہ افغان قیادت اس دورہ کے دوران یہ سوال ضرور پوچھے گی کہ جن درجنوں پاکستانیوں کی لاشیں حال ہی میں پاکستان کے ضلع دیر پہنچائی گئی ہیں وہ لوگ کیا کرنے افغانستان آئے ہوئے تھے۔ اُنہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے نیشنل ایکشن پلان پر اس کے فیصلوں اور ہماری توقعات کے مطابق عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ اگر عمل کیا جاتا تو صورتحال کافی بہتر اورمختلف ہوتی۔ اُنہوں نے کہا کہ میں نے وزیر اعظم کو بھی اس ضمن میں اپنے خدشات سے آگاہ کر دیا ہے۔
فاٹا کے بارے میں بات چیت کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ اُنہوں نے وزیر اعظم کو صاف بتا دیا ہے کہ متعدد دیگر کی طرح وہ بھی آئی ڈی پیز کی واپسی اور بحالی کے کاموں کی رفتار سے مطمئن نہیں ہیں ۔ اس وقت زمینی حقائق یہ ہیں کہ میرانشاہ سمیت متعدد دیگر علاقوں میں نہ تو کوئی دُکان بچی ہے نہ کوئی مارکیٹ اور نہ ہی کوئی کاروبار ، اگر آئی ڈی پیز کی واپسی اور باعزت بحالی کے کام پر توجہ نہیں دی گئی تو اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے وزیر اعظم سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ فاٹا کے عوام کو سود سے پاک قرضے دئیے جائیں اور ان کی دیگر معاشی ضروریات کا بھی خیال رکھا جائے۔ اُنہوں نے تجویز دی کہ فاٹا ریفارمز کمیٹی میں سیاسی اور مقامی نمائندوں کی رائے اور شرکت کو ممکن بنایا جائے۔
اُنہوں نے کہا کہ فاٹا میں ملک کے 80 فیصد معدنیات پائی جاتی ہیں اگر اسی صنعت کی بحالی اور فعالیت کیلئے سہولیات دی جائیں تو اس کی آمدن پورے ملک کی اکانومی چلانے کیلئے کافی ہے۔ اُنہوں نے مطالبہ کیا کہ باجوڑ ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر خار سے ایک سڑک اس طریقے سے شروع کی جائے جو کہ تمام ایجنسی ہیڈ کوارٹرز سے گزرتے ہوئے ژوب ، دیگر اضلاع کو لنک کریں اور آخر میں گوادر جانے والی موٹر وے سے ملائی جائے تو اس سے فاٹا مین سٹریم میں آجائیگا اور یہ وسطی ایشیاء کے ساتھ تجارت کا آسان اور مختصر راستہ بھی ثابت ہوگا۔ اسی تناظر میں ملاقات کے دوران میں نے وزیر اعظم کو مشورہ دیا کہ وہ مغربی روٹ اور فاٹا میں انڈسٹریل زونز کے قیام کو یقینی بنائیں اور قوم کو تفصیلات بتائی جائیں تاکہ پاک چائنا کاریڈور کے بارے میں پائے جانے والے تحفظات کا خاتمہ کیا جائے۔اُنہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ چین کو جو مسئلہ سنکیانگ اور تربت میں درپیش ہے اس کا ہم فاٹا اور بلوچستان میں سامنا کر رہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کاریڈور سے ان علاقوں کو ٹھوس فائدہ پہنچایا جائے۔ اُنہوں نے مزید بتایا کہ اہم ایشوز پر اپنے سیاسی مؤقف سے کسی بھی قیمت پر دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہیں ۔ ہمارے ملک کی روایت رہی ہے کہ اگر اسٹیبلیشمنٹ کی پالیسیوں پر تنقید کی جائے تو غداری کے فتوے لگانے شروع ہو جاتے ہیں تاہم میں غداری کے الزامات یا دباؤ کے باعث اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔
اے این پی کے سربراہ نے کہا کہ احتساب کے لیے جو طریقہ کار بنایا گیا ہے وہ سمجھ سے بالا تر ہے ۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ اکثر لوگوں کو ثبوتوں کی عدم موجودگی کے بعد بری کیا جاتا ہے حالانکہ ایسے کیسیز پر قوم کے کروڑوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں اور اسی کا نتیجہ ہے کہ لوگوں کا اس طریقہ کار پر اعتماد ختم ہو گیا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں اُنہوں نے کہا کہ سینیٹر ستارہ ایاز پر جتنی رقم کے کرپشن کا الزام لگایا ہے اتنا ان کی پوری وزارت کا مجموعی بجٹ بھی نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نواز شریف نے ملاقات کے دوران ان کو یقین دلایا ہے کہ وہ ان کے تحفظات ، خدشات اور تجاویز کی روشنی میں اہم اقدامات اُٹھائیں گے اور ان معاملات پر متعلقہ حکومتی حکام اور اداروں سے بات کریں گے۔
پریس کانفرنس میں اے این پی کے اہم قائدین حاجی غلام احمد بلور ، میاں افتخار حسین ، شاہی سید ، زاہد خان ، بشریٰ گوہر ، سینیٹر ستارہ ایاز ، اصغر خان اچکزئی اور باز محمد خان بھی موجود تھے۔

 

President Awami National Party Mr. Asfand Yar Wali Khan called on Prime Minister Muhammad Nawaz Sharif at PM House on November 25, 2015.

President Awami National Party Mr. Asfand Yar Wali Khan called on Prime Minister Muhammad Nawaz Sharif at PM House on November 25, 2015.