مادری زبانوں کے عالمی دن کے حوالے سے روخان یوسفزئی کی خصوصی تحریرMotherDay1

ہم آج ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں علوم و فنون اور تہذیب و ثقافت کا بیش بہا اور گراں قدر سرمایہ موجود ہے مگر جس طرح کہا جاتا ہے کہ اصل ہنر یہ نہیں کہ آپ ڈھیر ساری دولت پیدا کریں بل کہ یہ ہے کہ اس دولت کی حفاظت ، اس میں اضافہ اور پھر اسے اچھے مقاصد کے لیے استعمال کرنا سب سے بڑا کمال ہے،آج قوموں کی ترقی کا پیمانہ اوراشاریہ تبدیل ہوچکا ہے کسی قوم کی ترقی اب اس بات میں مضمرہے کہ وہ عالمی تہذیب وثقافت میں کس قدراضافہ کرتی ہے، ہمارے ہاں تہذیب، ثقافت اور تاریخی نوادرات کے ہزاروں لاکھوں قیمتی نمونے ہیں مگر بدقسمتی کہیے یا ہماری غفلت اورجہالت کہ ہم اپنے اس ورثے کو آنے والی نسلوں کو اس طرح منتقل نہیں کر پا رہے ہیں جیسا کہ دنیا کی دیگر اقوام کر رہی ہیں ہم وہ لوگ ہیں کہ اپنے ان قیمتی نوادرات کو اپنے ہاتھوں تباہ و برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں، کچھ ہمارا اپنا قصور اور کچھ ملک کی زمام حکومت عموماً ان لوگوں کے ہاتھ میں چلی آرہی ہے جو نہ صرف اپنے ماضی اور تاریخ سے بے خبر ہیں بل کہ انہیں اپنی ہر روایت اور قدر سے فرسودگی اور ماضی پرستی کی بو آتی ہے جس کے باعث انہیں اپنی روایات اور اپنے تاریخی ورثے کی قدر و قیمت کا احساس ہے اور نہ ہی وہ اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ خود ہی اپنے ہاتھوں کس گنج بے بہا کو برباد کر رہے ہیں ،،ہم دیکھ رہے ہیں کہ دور جدید کے لوگوں کا رویہ اپنے ماضی کے بارے میں ہتک آمیز اور نفرت آمیز ہوتا جارہا ہے نئی نسل اپنے حال کو تو بڑے احترام کی نظر سے دیکھتی ہے مگر اپنے ماضی کو اپنے آباؤ اجداد کی جہالت اور ناسمجھی کا نام دیتی ہے اور یہ بھول جاتی ہے کہ جو قوم اپنے ماضی پر سنگ زنی کرتی ہے حال اسے تمانچے سے مار دیتا ہے۔

اس سلسلے میں زبان کا مسئلہ جوپوری دنیا میں ایک علمی مسئلہ سمجھاجاتا ہے مگرہمارے ہاں اس علمی مسئلے کوبھی چند’’یارلوگ‘‘سیاسی رنگ دینے میں لگے ہوئے ہیں اوراپنے ذاتی مفادات کے حصول کی خاطراجتماعی مفادات کوپس پشت ڈالنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں2009ء میں جب خیبرپختون خواکے سینئروزیرشہید بشیراحمدبلور نے اسمبلی کے فلورپراردوزبان کوقومی نہیں بل کہ رابطے کی زبان کہا،تو ان کی اس تلخ حقیقت کے خلاف کئی’’یارلوگوں‘‘ نے آسمان سرپراٹھالیا تھا اوراس سلسلے میں اردوکی حمایت سے زیادہ اپنی ذاتی مخالفت اورسیاسی عنادپراترآئیں اوروہ بھی کچھ اس اندازمیں کہ شہید بشیراحمد بلورسے سرعام کوئی بہت بڑا گناہ سرزد ہوا ہو، اگراردو کورابطے کی زبان کے نام سے موسوم کرناواقعی گناہ کبیرہ ہے توشہیدبشیربلورسے پہلے یہ گناہ ملک کے کئی نامی گرامی قوم پرست، ترقی پسند سیاست دان،ادیب،ماہرلسانیات اوردانشور بارہا کرچکے ہیں اوروہ بھی صرف زبانی طورپرنہیں بل کہ تقریری اور تحریری طورپر جس کا ریکارڈ اورثبوت مختلف کتابوں،رسائل اوراخبارات کی شکل میں اب بھی وافرمقدارمیں موجود ہے، مگرکسی کی بات کو رد وقبول کرنا اوراپنی بات کوسچ ثابت کرنے کا اصل طریقہ دلائل وبراہین ہیں، جوکہ بحث مباحثے اورعلمی موضوعات کا ایک علمی اوردانشورانہ طریقہ ہے کسی پر اپنی مرضی کا ’’لیبل‘‘ چسپاں کرنامعلومات کی کمی اور علم کی کم زوری کی دلیل ہوتی ہے، اس میں شک نہیں کہ اردوایک بڑی اوروسیع زبان ہے جوکئی زبانوں کے الفاظ کے اشتراک سے وجودمیں آئی ہے اور اپنی کم عمری کے باوجود اس نے بہت زیادہ ترقی کی ہے کیوں کہ اسے دیگرزبانوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ سرکاری توجہ اورسرپرستی حاصل رہی اس کے برعکس یہاں بولی جانے والی ہزاروں سالہ قدیم مادری زبانوں کے ساتھ ہمیشہ غیرمساوی اورغیرامتیازی سلوک روا رکھا گیا،نام کی حدتک تواردوکوقومی زبان کہاجاتا ہے مگر جب بات کام کی آتی ہے توپھر’’اللہ اللہ خیرسلا‘‘۔

ہمیں ماہرین علم بشریات کی اس تاریخی حقیقت کو بھی مدنظررکھنا ہوگا کہ کسی زبان کوایک قوم کی زبان قراردینے سے پہلے ہمیں قوم کی تعریف اورتعارفMotherTongueDay واضح کرنا چاہیئے کیوں کہ قوم کے بغیرزبان،ثقافت اورتاریخ کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتااورقوم کی مختصرتعریف یہ بتائی جاتی ہے کہ اس کا ایک مشترکہ زبان، تاریخ ،ثقافت،زمین اورمشترکہ قومی کردار اور نفسیات ہو،اگرہم اس تعریف کی روشنی میں ملک میں بولی جانے والی زبانوں کا جائزہ لیں توبات واضح ہوجائے گی کہ کون،کون سی زبانیں قومی زبانوں کی تعریف پرپوری اترتی ہیں؟مانا کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے اردوکوقومی زبان کا درجہ دینا اوریہاں بسنے والے کوایک قوم کا نام دیا تھا اورساتھ یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان ایک جمہوری،فلاحی مملکت ہوگی اوریہاں بسنے والی تمام قومیتوں اوراقلیتوں کومساوی حقوق دیے جائیں گے اورکسی بھی قوم یا زبان کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیاجائے گا مگر ان کی وفات کے بعد اس ملک کے نقشے کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟ ہم بڑے فخر کے ساتھ’’ پاکستانی قوم‘‘ اور’’پاکستانی کلچر‘‘کے ناموں کی گردان کرتے رہتے ہیں، مگراس تلخ تاریخی حقیقت کونظراندازکررکھا ہے کہ مشرقی پاکستان ہم سے کس بات پر الگ ہوگیا؟ کیا ہم آج اس ملک کوقائداعظم کا بنایا ہوا ’’مکمل پاکستان‘‘ کانام دے سکتے ہیں؟ کیا بانی پاکستان کی ان باتوں کوہمارے کسی حکم ران نے اب تک عملی جامہ پہنانے کی مخلصانہ کوشش کی ہے؟ ہم اس حقیقت سے بھی انکارنہیں کرسکتے، کہ 73کے متفقہ آئین میں اردوکوقومی زبان کا درجہ دینے کی شق شامل ہے اورساتھ یہ بھی درج ہے کہ پندرہ سال بعداردوہماری سرکاری اوردفتری زبان ہوگی مگراتنے سال گزرنے کے باوجودآئین کی اس شق پر کس نے کتنا عمل کیا اوراس آئین کے ساتھ کیسا سلوک کیا گیا؟اس کے علاوہ اسی آئین میں صوبائی خودمحتاری کی شق بھی شامل ہے اورساتھ صوبوں کواس بات کا اختیاربھی دیا گیا ہے کہ وہ اگرچاہے تواپنے اپنے صوبے میں اپنی مادری زبان کو سرکاری اورتعلیمی زبان کادرجہ بھی دے سکتے ہیں،توکیاآئین کی اس شق پرابھی تک کوئی عمل درآمدہوا ہے؟ اوراگرکوئی صوبہ اسے عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرتا ہے تواس کے خلاف مخالفت کا طوفان کیوں کھڑا کیاجاتا ہے ؟اس بارے میں ہمارے ’’عاشقان زبان‘‘ نے کیوں چپ سادھ لی ہے؟ اگراردوکوواقعی اس ملک کی بڑی زبان کا درجہ دینا ہوتوسب سے پہلے ہمیں یہاں بسنے والی تمام قومیتوں کومساوی حقوق دینے ہوں گے،ان کی زبانوں اورثقافتوں کوپروان چڑھانا ہوگا ان کی معاشی،قومی،لسانی اورثقافتی احساس محرومیوں کا خاتمہ کرنا ہوگا ان کی ماں بولیوں کواوران کی ثقافت کوصدق دل سے اپنانا ہوگا۔

زبان چاہے کوئی بھی ہو اسے تقدس کی نگاہ سے دیکھنا ہوگا،کیوں کہ ہرانسان کواپنی زبان پیاری ہوتی ہے زبان کے مسئلے پرہمیں تعصب اورنفرت کا رویہ ترک کرنا ہوگا تب ہم ایک پاکستانی قوم اورپاکستانی کلچرکا دعویٰ کرسکیں گے،پاکستان میں بولی جانے والی تمام بڑی زبانیں قومی اور پاکستانی زبانیں ہیں اوریہاں جتنی بھی ثقافتیں پائی جاتی ہیں انہی کی ملاپ اوراشتراک سے پاکستانی کلچرعبارت ہے اس لیے ہمیں ان زبانوں اورثقافتوں کی ترقی اورترویج کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھانے ہوں گے ان زبانوں کو ذریعہ معاش کی زبانوں کا درجہ دینا ہوگا تب رابطے کی زبان اردوترقی کرے گی ،اس کے ساتھ لوگوں کا پیاربڑے گا،تب کہیں جاکرہم ایک پاکستانی قوم،پاکستانی کلچر کی شکل میں دنیا کے سامنے سرخروکھڑے ہوسکتے ہیں،عوامی نیشنل پارٹی اردوکورابطے کی زبان اس وجہ سے نہیں کہتی کہ وہ اس زبان سے تعصب برتتی ہے یا اس کے احترام اورتقدس سے منکرہے ، البتہ اردوکورابطے کی زبان کانام دے کر اے این پی اس حقیقت کا پردہ چاک کررہی ہے کہ؟ ہم اب تک ایک قوم کیوں نہیں بن سکیں ؟ ہمیں وہ تاریخی اور سیاسی اسباب ووجوہات تلاش کرنا ہوں گی، پاکستان دنیا کا واحدملک ہے جہاں صرف آئین میں لکھنے کی حد تک یہاں کی زبانوں اور ثقافتوں کویکساں ترقی دینے کی شق شامل ہے مگر عملاً ہر حکومت اس کے خلاف اقدامات اٹھاتی رہی،یعنی
ہیں کواکب کچھ نظرآتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکہ یہ بازیگرکھلا