پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی کابینہ کا ایک اہم اجلاس پارٹی کے صوبائی صدر سینیٹر افراسیاب خٹک کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں میاں افتخار حسین، سینیٹر باز محمد خان، سید عاقل شاہ، ملک غلام مصطفی، میاں مشتاق احمد اور دیگر عہدیداروں کے علاوہ سٹی ڈسٹرکٹ اور ضلع پشاور کے صدور اور جنرل سیکرٹریز نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی۔

اجلاس میں ضمنی انتخابات کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئےاین اے ون پشاور سے حاجی غلام احمد بلور، این اے 5 داؤد خٹک،  این اے 13 سے ستارہ ایاز، مردان پی کے 23 سے احمد بہادر خان پی کے 42 ہنگو سے حسین علی شاہ حسینی سے امیدوار نامزد کردیئے گئے۔  مردان پی کے 27 پر عمران مومند کی شہادت کی وجہ سے پارٹی نے اپنی سابقہ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے دہشت گردی میں شہید ہونے والے شہداء کے خلاف الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ کیا۔
اجلاس میں ضمنی الیکشن کے حوالے سے ایک رابطہ کمیٹی میاں افتخار حسین کی سربراہی میں صوبائی سطح پر تشکیل دی گئی ۔ جس میں میاں افتخار حسین کے علاوہ صوبائی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک، تاج الدین خان، ارباب محمد طاہر خان خلیل، میاں مشتاق احمد اور شگفہ ملک شامل ہیں۔ این اے ون پشاور ون کیلئے ملک غلام مصطفی، ہارون احمد بلور۔ کامران صدیق، نیاز مومند، ملک نسیم اور سرتاج خان پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ صوبائی رابطہ کمیٹی نوشہرہ، مردان، صوابی اور ہنگو ان اضلاع کیساتھ اپنے روابط قائم رکھے گی اور تمام اضلاع میں ضلعی کمیٹیاں تشکیل دی جائینگی۔ جو الیکشن کے دوران ضمنی الیکشن میں حصہ لینے والے اُمیدواروں کے حق میں بھر پور مہم چلائیں گے۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ گزشتہ جنرل الیکشن میں اے این پی کے خلاف سٹیبلیشمنٹ بیوروکریسی اور کسی دیگر ایجنسی نے ضمنی الیکشن میں مداخلت کی کوشش کی تو پارٹی ورکرز کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ اُن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائیگا۔ اور بلا خوف و خطر الیکشن میں بھرپور انداز میں حصہ لیکر یہ ثابت کیا جائیگا کہ اے این پی کے ورکرز جب باہر نکلتے ہیں تو وہ یہ ثابت کرتے ہیں کہ ہمیں کوئی سیاسی جماعت سیاسی طور پر شکست نہیں دے سکتی۔ اور وہ دوسرے ہتھکنڈے استعمال کر کے الیکشن میں ہمیں شکست دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ضمنی الیکشن میں ورکرز اپنا بھرپور کردار ادا کرینگے اور ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے الیکشن میں کامیابی حاصل کرینگے۔ کیونکہ 11 مئی2013 ء کے الیکشن میں جن لوگوں ((
نے پاکستان تحریک انصاف کو ووٹ دیا آج وہ پشیمان ہیں کہ تبدیلی کے نعرے پر ووٹ لینے کے باوجود ملک اور صوبے میں کوئی اہم تبدیلی نہیں آئی ۔ لوڈ شیڈنگ پہلے سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔ 15 اور 16 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ سے لوگوں کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے۔ دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے صوبائی دارالحکومت پشاورشہر کو غیر محفوظ بنادیا گیا ہے۔ صوبائی حکومت ابھی تک اپنی کابینہ کا اجلاس بھی نہ بُلا سکی۔ اس غیر یقینی صورتحال میں نا تجربہ کار لوگوں کا اسمبلی میں ہونا اور اتحادی پارٹیوں کا آپس میں اتفاق رائے کا نہ ہونا صوبے کے لوگوں کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
آنے والے ضمنی انتخابات میں عوام اُنہیں شکست فاش دیکر یہ ثابت کرینگے کہ صرف جھوٹے نعروں سے اور طفل تسلیوں سے کام نہیں چلے گا۔ کیونکہ عملی طور پر صوبائی حکومت بُری طرح ناکام ہے۔ پاکستان تحریک انصاف میں اندرونی اختلافات کی وجہ سے حکومت کارکردگی صفر ہے۔ صوبائی اسمبلی کے سپیکر صاحب کو یہ نہیں معلوم کہ اسمبلی کا سپیکر منتخب ہونے کے بعد وہ پارٹی کی صدارت نہیں کر سکتے کیونکہ آئینی اور اخلاقی طور پر سپیکر کا عہدہ غیر جانبدار ہوتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کر پائی کہ اسد قیصر کے سپیکر بن جانے کے بعد پارٹی کا صدر کون ہوگا۔ ان تمام حرکات و سکنات کو عوام بڑی گہری نظر سے دیکھ رہی ہے۔ اور عوام کا یہ خیال ہے کہ ان کی حکومت کا بہت جلد دھرم تختہ ہونے والا ہے۔