پشاور، عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدراسفندیارولی خان نے کہاہے کہ دہشتگردی کسی ایک پارٹی یاعلاقے تک محدودنہیں بلکہ پوری قوم کامسئلہ ہے ۔ہمیں مل جل کراس کاحل نکالناہوگا۔مسئلہ حل کیے بغیرملک میں پُرامن ماحول،تعمیروترقی ،عوامی خوشحالی اوربیرونی سرمایہ کاری کاتصورمشکل ہے۔تمام سیاسی قوتیں،سول سوسائٹی اورمیڈیاکامشترکہ فرض ہے کہ دہشتگردی کی روک تھام کیلئے لائحہ عمل بنایاجائے ۔ آخری سانس تک اپنے بزرگوں کی راہ کونہیں چھوڑیں گے۔قوم کی بقاء اورتحفظ کی جدوجہد میں سرخ جھنڈے کے پیروکاروں نے قصہ خوانی ،بابڑہ ،بازارکلاں اورٹکرمیں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔آج بھی اے این پی کے کارکن اس مقصد کیلئے قربانیاں دینے والوں میں پیش پیش ہیں۔کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کاشہرنہیں بلکہ منی پاکستان ہے۔کراچی میں قیام امن کی اجتماعی کوششیں ضرور رنگ لائیں گی۔ انہوں نے ان خیالات کااظہارپیرکے روزنشترہال پشاورمیں فخرافغان باچاخان کی 25ویں اوررہبرتحریک عبدالولی خان کی ساتویں برسی کے موقع پرخطاب کرتے ہوئے کیا۔دیگرمقررین میں صوبائی صدرسینیٹرافراسیاب خٹک ،وزیراعلیٰ امیرحیدرخان ہوتی ،میاں افتخارحسین ،پی ایس ایف کے مرکزی صدربشیرخان شیرپاؤاورضلعی صدرارباب نجیب اللہ شامل تھے۔

اسفندیارولی خان نے تمام سیاسی قوتوں کوآل پارٹیزکانفرنس میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ یہ خیبرپختونخوایااے این پی کامسئلہ نہیں بلکہ پوری قوم کامسئلہ ہے ۔آل پارٹیزکانفرنس میں دہشتگردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل کی تیاری میں ہماری پہلی ترجیح مذاکرات ہوں گے۔ اس کے بعددیگرآپشن پربات ہوگی ۔انہوں نے کہاکہ دہشتگردبلاامتیازتمام جماعتوں،اداروں اور طبقوں کونشانہ بنارہے ہیں۔انہوں نے سوال کیاکہ جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوگاپاکستان کے پُرامن حالات،بیرونی سرمایہ کاری اورملک کی ترقی کیسے ہوسکتی ہے۔آل پارٹیزکانفرنس کے حوالے سے تمام جماعتوں کے ساتھ ہمارے رابطے شروع ہیں۔پختونوں کے روایتی جرگے کے ذریعے سب کو راضی کریں گے۔

اسفندیارولی خان نے کہاکہ اے این پی نے پانچ سال کے عرصے میں اپنے بزرگوں اوران کے ساتھیوں کے تمام خواب اورارمان پورے کردیے ہیں اوراب ہم ان کے باقی ماندہ ایک ارمان امن کیلئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گے۔انہوں نے کہاکہ ہم اپنی کارکردگی کی بنیادپرعوام کے پاس جانے کی جرات اورصلاحیت رکھتے ہیں۔انہوں نے کارکنوں پرزوردیاکہ انتخابات قریب ہیں وہ اس مقصد کیلئے کمربستہ ہوجائیں۔انہوں نے کہاکہ مخالفین کسی بھی حال میں خوش نہیں رہ سکتے۔اے این پی کے قائد نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں میڈیاکی قربانیوں کوخراج تحسین پیش کیااورکہاکہ سیاسی ورکروں کے ساتھ ساتھ میڈیاکے نمائندوں کی قربانیاں بھی تاریخ کاحصہ ہیں۔انہوں نے کہاکہ یہ لڑائی ہم سب کی ہے۔

انہوں نے میڈیاسے اپیل کی کہ وہ مثبت سوچ کے ساتھ ہماری آوازدنیاکے اُن کونوں تک پہنچائیں جہاں ہماری رسائی نہیں۔موجودہ اورآئندہ نسلوں کوپُرامن حالات میں جینے کاحق دینا،اسلام کی حقیقی تصویران کے سامنے رکھنااورانہیں بہترین انسان بناناہم سب کامشترکہ فرض ہے۔کراچی کے حالات کاذکرکرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کراچی کسی ایک کانہیں ہم سب کاشہرہے اس پر پورے پاکستان کاحق ہے ۔کراچی میں امن کے قیام کیلئے جاری اجتماعی رابطے اورکوششیں ضرور کامیاب ہوں گی۔انہوں نے اس عہدکی تجدیدکی کہ جب تک ہمارے جسم میں سانس اورخون باقی ہے ہم اپنے بزرگوں اوران کے ساتھیوں کی راہ نہیں چھوڑیں گے۔انہوں نے کارکنوں کواس سال کوباچاخان کے سال کے طورپرمنانے کی ہدایت کی تاکہ پختون رہنماکے افکار،فلسفے ،اصولوں، قربانیوں کو پھیلانے کاسلسلہ جاری رہے۔

وزیراعلی پختونخوا امیرحیدرخان ہوتی نے پختون رہنماؤں باچاخان اورعبدالولی خان کی خدمات اورقربانیوں کوزبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ ایرانی قونصل جنرل حسن درویش وندکی برسی کی تقریب میں موجودگی اس حقیقت کی غماز ہے کہ باچاخان کی خدمات ،شخصیت ،اورقربانیاں اورولی خان باباکی جدوجہدصرف اس خطے تک محدودنہیں بلکہ پوری دنیاانہیں قدرکی نگاہ سے دیکھتی ہے ۔انہوں نے پختونوں کی ہر خوشی اورغم میں ہمیشہ شریک ہونے پرایرانی قونصل جنرل ،ایرانی حکومت اورعوام کاشکریہ اداکیا۔انہوں نے کہاکہ ہم سب ایک گھرایک سوچ اورایک رورولی کے ساتھی ہیں تاہم حسن درویش وند کی موجودگی ایران اورایرانی بھائیوں کے دلوں میں پختونوں کے قائدین کیلئے عزت اوراحترام کی آئینہ دارہے۔

انہوں نے پشاورکواے این پی کامضبوط قلعہ قراردیااورکہاکہ اس وقت پشاور،صوابی ،چارسدہ ،مردان کے ساتھ ساتھ پورے خیبرپختونخوامیں اے این پی ایک مضبوط سیاسی قوت کے طورپرموجودہے ۔کوہستان ،مانسہرہ ،بٹگرام ،ہری پورہ ،ٹانک ،کوہاٹ ،ڈیرہ اسماعیل خان ،کرک کے منتخب نمائندوں اورممتازسیاسی خاندانوں کی سرخ جھنڈے کے سائے تلے باچاخان کے قافلے میں شمولیت اس کاثبوت ہے۔انہوں نے کہاکہ آئندہ انتخابی مراحل میں بھی کامیابیاں اے این پی کا مقدربنیں گی ۔انہوں نے بشیراحمدبلور،عالمزیب ،ڈاکٹرشمشیرعلی خان ،میاں راشدحسین سمیت اے این پی کے سینکڑوں کارکنوں کی جرات ،غیرت، عظمت اورقربانیوں کو سلام پیش کیاجن کی برکت سے باچاخان کے سپاہیوں کاکاروان اپنی منزل کی طرف کامیابی کے ساتھ گامزن ہے ۔انہوں نے کہاکہ پشاورمیں بچوں کے علاج کا ہسپتال وقت کی ضرورت ہے حکومت نے حیات آبادفیز5میں آرایم آئی کے سامنے اس مقصدکیلئے 20کنال اراضی مختص کردی ہے جس پربہت جلدچلڈرن ہسپتال کاسنگ بنیادرکھیں گے۔200بستروں پرمشتمل مذکورہ ہسپتال میں بچوں کے علاج معالجے کی جدیدترین سہولیات دستیاب ہوں گی۔انہوں نے اپنے قائدین کے حکم پراس ہسپتال کوشہیدبشیراحمدبلورکے نام سے منسوب کرنے کااعلان کیا۔انہوں نے اے این پی اورموجودہ حکومت کی کامیابیوں کوقائدین کی رہنمائی ،کارکنوں کی محنت اورعوام کی تائیدوحمایت کی مرہون منت قراردیا۔انہوں نے اس عزم کااعادہ کیاکہ ہرمشکل اورآزمائش میں فخرافغان باچاخان اوررہبرتحریک عبدالولی خان کی راہ پر چلتے ہوئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔