10-21-2015 8-08-07 PM

پی ٹی آئی کی طرح گالی گلوچ اور انتقام کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے مگر وقت آنے پر  سود سمیت حساب لیا جائیگا، مرکزی صدر اسفندیار ولی خان کا آج نیوز کو انٹرویو
جس حکومت کو پرویز خٹک گالیاں دے رہے ہیں ساڑھے چار سال تک موصوف اس حکومت میں خود بھی وزیر رہے۔
کالاباغ ڈیم اور کاریڈور کے ایشوز پر آئینی اور قانونی طریقے سے ہمارے مفادات کا خیال رکھا جائے۔
دہشتگردی اور افغان مسئلے کا حل دوشریفوں کے ہاتھ میں ہے ، کابل اور اسلام آباد آپس میں بیٹھ کر بات کریں۔

 

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ تحریک انصاف نے ملک اور صوبے میں گالی گلوچ ، الزامات اور انتقامی سیاست کے کلچر کوفروغ دیا ہے تاہم عمران خان اور ان کی حکومت پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ آج وہ جو کچھ کر رہے ہیں وقت آنے پر اس کا سود سمیت حساب چکایا جائیگا جبکہ اے این پی کی رہنما سینیٹر ستارہ ایاز کو پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہونے نہیں دیں گے بلکہ قانونی ، آئینی اور سیاسی طریقے سے ان کا دفاع کریں گے۔
نجی ٹیلیویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ ہم تحریک انصاف کی طرح مخالفین کو گالیوں ، الزامات اور انتقامی سیاست کا نشانہ بنانے کے طریقوں پر یقین نہیں رکھتے ہم سیاسی لوگ ہیں اور ایشوز کی بیناد پر اتفاق رائے یا اختلاف رائے کا حق استعمال کرتے آئے ہیں تاہم اپنے ہی وزراء اور ممبران اسمبلی کی جانب سے کرپشن کے الزامات کا سامنا کرنیوالی تحریک انصاف اور اس کی حکومت نے صوبے کی پولیٹیکل کلچر کو تباہ کر دیا ہے ۔ حالانکہ جس حکومت کو پرویز خٹک کرپٹ قراردینے پر تلے ہوئے ہیں اس حکومت میں موصوف ساڑھے چار سال تک خود بھی وزیر رہے۔ اُنہوں نے کہا کہ شاید ہی کوئی ایسی پارٹی رہی ہو جس کا پرویز خٹک حصہ نہیں رہے ہوں۔ ایسے شخص سے سنجیدگی اور صوبے کی خدمت کی توقع کیسے رکھی جا سکتی ہے جس نے اپنی منصب کی پرواہ کیے بغیر کنٹینر پر کھڑے ہو کر ناچ کے ذریعے ہمارے صوبے کی نمائندگی کی ہو۔ کم از کم ان کو اپنی کرسی اور ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ تحریک انصاف اور اس کی حکومت کو دوسروں کے علاوہ اپنے وزراء اور ممبران اسمبلی کی جانب سے بدترین کرپشن کے الزامات کا سامنا ہے اور اس سلسلے میں دوسروں کے علاوہ ایک گرفتار وزیر کی مثال دی جاسکتی ہے جس نے فلور آف دی ہاؤس وزیر اعلیٰ تو کرپٹ اور نااہل قرار دیا۔ تحرک انصاف کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ جس انتقامی سیاست کا اُنہوں نے آغاز کیا ہے وقت آنے پر اس کا سود سمیت حساب لیا جائیگا۔
کالا باغ ڈیم پر بات کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ تین صوبے اتفاق رائے سے یہ منصوبہ مسترد کر چکے ہیں۔ اس لیے صرف ایک صوبے کیلئے تین صوبوں کو قربان نہیں کیا جا سکتا۔ ہم دلائل اور اسباب کی بنیاد پر اس کی مخالفت کر رہے ہیں تاہم یہ بھی بتانا چاہ رہے ہیں کہ اگر ہمارے لیے آئینی قانونی راستے بند کیے گئے تو ہم مجبوراً غیر جمہوری راستے اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے تاہم اسکے نتائج پاکستان کو بھگتنے پڑیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا کالاباغ ڈیم ہی واحد آپشن ہے یا دیگر منصوبوں پر بھی غور کیا جاسکتا ہے؟ واپڈا اور دیگر متعلقہ ادارے اور ماہرین متعدد بار خود کہہ چکے ہیں کہ اس سے وادی پشاور کو شدید نقصان پہنچے گا اور شاید اسی کا نتیجہ تھا کہ اس منصوبے کی مخالفت میں پہلی بریفنگ جنرل فضل حق مرحوم نے دی تھی۔
پاک چائنا اکنامک کاریڈور پر واضح انداز میں بات کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ مغربی روٹ پر کام کا آغاز نہ صرف پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں ملک کے مفاد میں ہے بلکہ سنٹرل ایشیا تک جانے کا بھی یہ محفوظ اور آسان ذریعہ ہے ۔ تاہم وزیر اعظم اے پی سی میں اپنے اعلان کردہ فیصلے سے مکر گئے ہیں اور اعلان کے برعکس مشرقی روٹ پر کام جاری ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ چین اس منصوبے پر اتنی بڑی سرمایہ کاری اس لیے بھی کر رہا ہے کہ اس کے سرحدی علاقوں میں موجودانتہاپسندی کا راستہ روکا جائے تاہم یہاں پر انتہا پسندی کے شکار علاقوں اور خیبر پختونخوا کو ہمارے حکمران اس تناظر میں نظر انداز کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔
دہشتگردی اور افغانستان کے معاملے پر بات کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے مل کر خود ہی اس مسئلے کا حل نکالنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اشرف غنی کے ساتھ بنی انڈرسٹینڈنگ کیوںآگے نہ بڑھ سکی اور غلط فہمیوں میں مزید اضافہ کیوں ہوا۔ اُنہوں نے کہا کہ مسئلے کا حل واشنگٹن کے پاس نہیں بلکہ کابل اور اسلام آباد کے پاس ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اصل اختیار دو شریفوں یعنی نواز شریف اور راحیل شریف کے پاس ہے اس لیے وہ آگے بڑھیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر افغان طالبان مذاکرات اور امن میں سنجیدہ ہوتے تو سیز فائر کا اعلان کرتے مگر اُنہوں نے اُلٹا حملے تیز کیے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان اور افغانستان نیک نیتی کا مظاہرہ کرکے اپنی غلط فہمیاں اور دوریاں ختم کریں۔
پاک بھارت کشیدگی پر اظہار تشویش کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ جب تک شہ رگ اور اٹوٹ رنگ جیسے نعروں اور دعوؤں کو الماری میں بند نہیں کیا جاتا کشیدگی اسی طرح برقرار رہے گی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کہ ان نعروں کی بجائے مہذب ممالک کی طرح مذاکرات کی میز پر بیٹھا جائے اور کشیدگی ، مسائل کو بات چیت اور برداشت کے ذریعے حل کرنے کی پالیسی اپنائی جائے۔