SardarHussainBabakخواتین کے حقوق کے عالمی دن آٹھ مارچ کی مناسبت سے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈرسردارحسین  بابک کا مضمون

گزشتہ دور حکومت میں بطور صوبائی وزیر تعلیم کے جو کچھ میں جانااور جو کچھ محسوس کیا اپنے ان احساسات کا اظہار آج کے دن کے حوالے سے اپنی قوم کے تمام افراد بالخصوص خواتین کی خدمت میں عرض کرنا اپنا قومی اور اخلاقی فرض سمجھتا ہوں۔ اس حقیقت پر دنیا کے تمام ماہرین تعلیم متفق ہیں کہ تعلیم کا پہلا اور مرکزی کردار انسانوں میں اپنی مٹی،قوم،زبان،ثقافت سے پیار اور اجتماعی شعور پیدا کرنا ہے، جس کے لیے ایک ایسی تعلیم اور تعلیمی نصاب ہو جو حقیقی معنوں میں مکمل ہو۔ اور مکمل ہونے سے میری مراد یہ کہ تعلیم ہرقسم تعصب اور طبقاتی امتیازات سے بالکل پاک ہو،کیوں کہ جس قوم کے نصاب تعلیم میں صنف، جغرافیہ،نسل،طبقہ اور زبان جیسے تعصبات داخل ہوں تو ظاہر ہے کہ اسے ہم غیرجانبدار اور مکمل تعلیم نہیں کہہ سکتے۔ نظریاتی طور پر جاننے اور سیکھنے کا سارا عمل اس بات پر دارومدار رکھتا ہے کہ ہر فرد کو اپنے منصب اور اپنے فرائض کا شعور ہو۔ اس طرح ہر فرد، معاشرے کے لیے ایک مفید اور ذہنی طور پر کشادہ وحدت کا کام کرتا ہے۔ جب تعلیم افراد کو متحرک کرنے کی بجائے جامد اور ان کا دائرہ کار بڑھانے کی بجائے محدود کر دیتی ہے اس وقت تمام وسائل، محنت اور نظریات کارآمد اور مفید ہونے کی بجائے غیر موثر اور بے معنی ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اسی لیے تعلیم ایک اہم ذمہ داری ہے اور ایک حساس معاملہ ہے، جہاں تک عورتوں کی تعلیم کا مسئلہ ہے تو اس جانب سب سے پہلے عملی طور پر قدم اٹھانے والی شخصیت بھی ہمارے قومی محسن اور فخرافغان باچاخان ہیں جنہوں نے اس زمانے میں عورتوں کی تعلیم کے حوالے سے اپنی قوم میں شعور بیدار کرنے کی بھرپور مہم اپنی ادارت میں چلانے والے رسالے’’پختون‘‘ کے ذریعے چلائی۔ بابا ئے امن باچاخان کو اس بات کا ادراک تھا کہ جب تک ہم اپنی قوم کی خواتین کو تعلیم کے زیورسے آراستہ نہیں کریں گے اس وقت تک ہماری معاشرتی،علمی اور قومی ترقی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

جیسا کہ انہوں نے فرمایا ہے کہ’’ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ عورت ہماری غلامی کے لیے پیدا کی گئی ہے،لیکن یہ بات بلکل غلط ہے،جیسا کہ ہماری قوم بہت سے معاملات میں ایرانی اور ہندو تہذیب کے زیر اثرہے اسی طرح یہ خیال بھی ہم میں ہندوں کے ساتھ ایک جگہ بودباش سے پیدا ہواہے ورنہ اسلام میں یہ بلکل نہیں ہے۔خدا نے اس دنیا کے نظام کو چلانے کے لیے عورت اور مرد کو پیدا کیاہے،جس طرح عورت کو مرد کی ضرورت ہے ویسے مرد کو عورت کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ دنیا میں دو بہترین دوست اور ساتھی ہیں،کسی قوم اور ملک کی ترقی اور تنزلی عورتوں کی قابلیت اور لیاقت پر ہی موقوف ہے۔ اے میری بہنوں اور بیٹیوں حقیقت تو یہ ہے کہ اسلام نے عورتوں اور مردوں کو ایک جیسے حقوق دیے ہیں،مگر عورتوں کی کم علمی بے کسی اور مظلومیت سے مردوں نے ناجائز فائدے اٹھائے ہیں۔آپ کو اپنے حقوق کے حصول کے لیے خود ہی کوششیں کرنی پڑیں گی،اور اگر آپ میں سے کوئی اس خدمت کے لیے تیار ہو تو میں ان کی ہرقسم مدد کرنے کے لیے کمربستہ ہوں۔تاہم یہ یاد رکھیں کہ کوئی بھی دوسرے کے پاوں پر کھڑا نہیں ہوسکتا اور نہ ہی کچھ کرسکتاہے،جو کچھ بھی کرنا ہے تو آپ خود ہی کروگے ۔دنیا میں ایسا کوئی کام نہیں جسے انسان چاہے اور وہ ہونا پائے ہمت،جرات اور کمرباندھنے کی ضرورت ہے۔

میں اپنی قوم کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے لڑکوں سے زیادہ ضروری ہماری بیٹیوں کی تعلیم ہے،کیوں کہ بچے کی تربیت اور مدرسہ ماں کی گود ہے۔ میں اپنی قوم کے مشران سے اپیل کرتا ہوں کہ عورتوں کی حالت پر بھی رحم اور توجہ دیں انہیں اس پستی سے نکلنا چاہیئے،کیوں کہ ان کی پستی ہماری پستی ہے‘‘۔کہنے کا اصل مدعا یہ ہے کہ باچاخان بابا نے اس وقت بھی یہ ضرورت شدت کیساتھ محسوس کی تھی کہ پختون عورتوں کو معاشرے کا فعال اور متحرک حصہ بنایا جائے تاکہ معاشی اور معاشرتی ترقی کے تمام عوامل اپنی قوت کے ساتھ تعمیر و تہذیب میں شامل کیے جا سکیں۔لہذا حالات چاہے کچھ بھی ہوں تاہم ہمیں اپنے معاشرے کے آدھے جیتے جاگتے حصے کو بے خبر اور جاہل نہیں رکھنا چاہئے ۔اگرچہ یہ صورت حال ابھی تک واضح نہیں کہ عورتوں کو معاشرے کا ایک فعال اور مساوی طور پر متحرک فرد بنانے کے لیے اسے کن خطوط پر تعلیم دی جائے۔ معاشرے کی تعمیر اور ترقی میں عورتوں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کا شعور بھی موجود ہے۔ لیکن اس کو عملی طور مفید ثابت کرنے کے لیے معاشرتی منشاء کی ضرورت ہے، معاشرہ فرد کو کس منصب پر دیکھنا چاہتا ہے اور اس سے کس طرح کے فرائض کی توقع کرتا ہے؟ یہ معروضی زاویہ نظر ابھی تک تعلیم کے اصول اور حصول پر اثر انداز نہیں ہو سکا ہے۔
عورتوں کی تعلیم، اس کے مناسبات اور متعلقات کا جائزہ لینے کے لیے اس ماحول پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہو جاتا ہے کیوں کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ ماحول فکر کا حصہ رہا ہے اور اسی سے معاشرتی منشاء کی ساخت و پرواخت ہوتی رہی ہے۔ یہ تصور تو ہمارے عام یقین کا حصہ ہے کہ عورتیں مردوں کے مقابلے میں کمزور ہیں اور اس لیے وہ مردوں کے مقابلے میں کم تر بھی ہیں ان کی پرورش اور تربیت کی ذمہ داریاں انہیں ایثار اور قربانی ہی سکھاتی ہیں۔ اسی لئے عورت کا منصب گھر اور اس کے مناسبات سے متعین کر دیا گیا اس کا فرض خدمت اور اطاعت ٹھہرا، جب کہ مردوں کے لیے خدمت کروانا اور اطاعت گزار رکھنا مخصوص سمجھا جانے لگا۔ زندگی شراکت کا نام ہے لیکن یہاں شراکت کی بجائے الگ الگ دائرہ کار مصروف رہنا زندگی کی تعبیر کر دیا گیا ایک طرف نسوانیت آئیڈیل ٹھہرائی گئی لیکن دوسری طرف معاشرے کی بہت سی سطحوں پر انسانیت کا حق بھی اسے نہیں دیا گیا، وہ حق جو اسے مذہب اور اخلاق کے حوالے سے پیدائشی طور پر میسر ہے، بقول ہمارے قوم پرست شاعر روخان یوسفزئی کہ
خزہ د ھر سڑی د ژوند حصہ دہ
خو پہ میراث کے ئے حصہ نشتہ دے
آبادی کے اس تشویش ناک اضافہ پر قابو پانے کے لیے عورت کے شعور کو بیدار کرنا اور اس کو اپنی معاشی اور معاشرتی ضرورتوں سے آگاہ کرنا صرف تعلیم ہی کے ذریعہ ممکن ہے۔ جب تک تعلیم اسے یہ اطلاع اور اعتماد مہیا نہ کرے کہ معاشرے میں اس کے منصب کا اعتبار اس کے متحرک، فعال، حساس اور باخبر فرد ہونے پر ہے اس وقت تک وہ اپنی شخصیت کو ان ہی روایتی تصورات کے حوالے سے پہچانتی رہے گی جو معاشرتی کلچر اور روایات میں حکم کا درجہ پا چکے ہیں، تھوڑی دیر کو اگر خود کو یوں فریب دے دیا جائے کہ زندگی کے مسئلوں کو سلجھانے اور معاشرتی منشاء میں صحت مند تبدیلی لانے کے لیے عورت کی شرکت ہر گز ضروری نہیں ہے تو کیا آبادی کے اضافہ کے سوال پر بھی ہم یہ فرض کر سکتے ہیں کہ عورت کو وقت کی مناسبت اور حالات کی مطابقت سے تعلیم دیئے بغیر ہم افلاس،انتہاپسندی،شدت پسندی،دہشت گردی اور بے چارگی سے اپنے آپ کو قومی اور اجتماعی طور پر محفوظ رکھ سکیں گے؟