Read Declration of Pakhtun Qaumi Jirga

پشاور، خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات و ثقافت میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ بحیثیت پختون ان کی تمام تر کوششوں کا محور گزشتہ تین دہائیوں سے دہشت گردی اور بدامنی کا شکار پختون قوم کو مشکل سے نکالنا ہے اور اس عظیم مقصد کے لئے وہ کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ جرگہ پختون ثقافت کا اہم ادارہ ہے اور اس اہم فورم کے ذریعے ہم پوری دنیا تک پختون قوم کی آواز موثر انداز میں پہنچائیں گے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز نشتر ہال پشاور میں بزرگ سیاستدان افضل خان لالا کی دعوت پر منعقدہ قومی جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جرگے میں پوری دنیا سے پختونوں کے کے علاوہ مختلف سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں اورہر مکتبہ فکر کے لوگوں نے بھی شرکت کی۔ جرگہ سے دوسروں کے علاوہ افضل خان لالا ،افغان مندوب الحاج دین محمد ،سینیٹر افراسیاب خٹک، صوبائی وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن لیاقت شباب، مفتی جانان ایم پی اے، سرائیکی کے نمائندے عبدالمجید کانجو، عبدالرشید جلیلی، شرین گردیوال، ڈاکٹر سید عالم اور ایمل خان خٹک نے بھی خطاب کیا اور پختون قوم کو موجودہ مشکل صورتحال سے نکالنے کے لئے اپنی مفید تجاویز پیش کیں۔

جرگہ کے تمام شرکاءاس بات پر متفق تھے کہ پختون قوم کے مسائل کا حل پختونوں کے اتحاد میں مضمر ہے۔ اس دوران یہ بات بھی واضح کی گئی کہ یہ جرگہ کسی کی ضد یا مخالفت میں منعقد نہیں کیا جا رہا بلکہ اس کا واحد مقصد پختون قوم کو درپیش مسائل و مشکلات پر غور و خوض کرنا اور دنیا کو یہ پیغام دیناہے کہ پختون دہشت گرد نہیں بلکہ ایک امن پسند ،مہذب اور دہشت گردی سے نفرت کرنے والی قوم ہے اور عالمی سطح پر اسے غلط طور پر دہشت گرد کی حیثیت سے پیش کیا جا رہا ہے۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جہاد میں جو کردار ادا کیا ہے وہ کسی پر احسان نہیں بلکہ ان پر اس دھرتی کا قرض ہے اور حکومتی ذمہ دار کی حیثیت سے فرض اولین ہے۔انہوں نے کہا کہ آج اس دھرتی کے لئے ہم جو قربانیاں دے رہے ہیں وہ باچا خان کی سوچ و فکر کی مرہون منت ہیں یہی وجہ ہے کہ750پارٹی عہدےداروں اور کارکنوں کی شہادت کے باوجود ہمارے عزم و حوصلے میں معمولی سی لغزش بھی نہیں آئی۔انہوں نے اعلان کیا کہ اس دھرتی کے امن اور بچوں کے مستقبل کی خاطر وہ اپنے بیٹے کا خون معاف کرنے اور دہشت گردوں سے مذاکرات کے لئے تیار ہیں۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ دہشت گردی کا مسئلہ انفرادی مذاکرات سے ہر گز حل نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے لئے پاکستان ،امریکہ ،افغانستان اورشدت پسندو ں کو ایک مکمل، بااختیار اور واضح ایجنڈے کے ساتھ مذاکراتی کمیٹی تشکیل دینا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ جنگ یا گولی کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ ہر مسئلے کا حل مذاکرات سے ممکن ہے ۔ ہم نے اپنے ابتدائی دور میں مالاکنڈ میں مذاکرات کئے لیکن بدقسمتی سے دہشت گردوں کی ہٹ دھرمی سے وہ کامیاب نہیں ہوئے جس کا انہیں دلی افسوس ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم اپنے لوگوں کی جان و مال کی حفاظت ہر صورت یقینی بنائیں گے اور کسی سے نہیں ڈریں گے کیونکہ ڈرنے والا بار بار اور نہ ڈرنے والا ایک بار مرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ انہیں غیرت کی ایک دن کی زندگی قبول ہے لیکن بے غیرتی کے سو سال نہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں سے حساب برابر کرنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

See pictures of the Jirga