پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے سیکرٹری جنرل و ترجمان پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) میاں افتخارحسین نے کہا ہے کہ چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ انتخابات میں اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے سے جمہوری اقدار کو پاؤں تلے روندا گیا، پی ڈی ایم اتحاد برقرار ہے اور رہے گا، ہر غیرجمہوری عمل کے خلاف میدان میں نکلیں گے۔

چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ انتخاب پر ردعمل دیتے ہوئے میاں افتخارحسین نے کہا کہ چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں غیرجمہوری قوتوں کی جیت ہوئی ہے۔ چیئرمین سینیٹ انتخاب میں غیرآئینی طور پر سرکاری امیدوار کی کامیابی کا اعلان کیا گیا۔ پی ڈی ایم اس انتخاب کو ہر فورم پر چیلنج کرے گی، جلد ہی لائحہ عمل کا اعلان کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ دھاندلی، دھونس اور دھند کے بعد کیمروں کے ذریعے اپوزیشن کو دبانے کی ناکام کوشش کی گئی۔ پارلیمنٹ اور آئین کی بالادستی کی یہ جنگ جاری رہے گی، غیرجمہوری قوتوں کو ایک دن شکست ضرور دیں گے۔

ترجمان پی ڈی ایم کا کہنا تھا کہ عدالتی اور سیاسی محاذ پر پوری پی ڈی ایم ایک پیج پر ہیں، یوسف رضا گیلانی ایک ووٹ سے جیت چکے ہیں۔ پریزائیڈنگ آفیسر بھی حکومتی اتحاد کا حصہ تھا جو پورے انتخاب میں کسی بھی طور نیوٹرل نہیں رہا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اب عمران خان کے وہ اصول کہاں ہیں جو کہتا تھا انکے اراکین نے یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دیا، بکاو مال کہا۔ اپوزیشن کی واضح اکثریت کو کس طرح اقلیت میں تبدیل کیا گیا، اس کی وضاحت اور تحقیقات چاہتے ہیں۔

میاں افتخارحسین نے کہا کہ اپوزیشن نے جن خدشات کا اظہار کیا تھا، آج وہ حرف بہ حرف سچ ثابت ہوگئے، جمہوریت کو کمزور نہیں ہونے دیں گے۔میاں افتخارحسین نے کہا کہعام انتخابات 2018ء میں دھاندلی، اعتماد کے ووٹ میں دھاندلی اور اب چیئرمین سینیٹ کے انتخابات میں بھی دھاندلی کی گئی ۔ اس عمل سے اپوزیشن کو مکمل طور پر دیوار سے لگانے کے مترادف ہے اور اپوزیشن کو اس عمل کی روک تھام کیلئے سخت اقدام اٹھانا ہوگا تاکہ جمہوریت کے نام پر جو ڈرامہ چل رہا ہے اس کو بند کیا جائے۔ اس عمل کے بعد اب عوام کیا توقع رکھیں گے اور آج ہمارے اس موقف کی جیت ہوئی ہے کہ 2018ء کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ کیمروں کے ذریعے چوری پکڑی جاتی ہے لیکن پاکستان میں چوروں کے کیمرے پکڑے گئے۔