پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر اور سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا امیرحیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ ملک میں صدارتی نظام کی بازگشت ہورہی ہے لیکن واضح کرنا چاہتے ہیں کہ یہ ملک پاکستان کو آئین کے تحت ہی چلایا جاسکتا ہے اور آئین میں صدارتی نظام کا کوئی ذکر موجود نہیں بلکہ پارلیمانی نظام موجود ہے۔ چھوٹے صوبوں سمیت پورے پاکستان کے حقوق کا تحفظ صرف اور صرف پارلیمانی نظام میں ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان کے جمہوری نظام کے ساتھ مزید کھلواڑ بند کی جائے۔

پشاور بار ایسوسی ایشن کے زیراہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امیرحیدر خان ہوتی نے کہا کہ وکلاء تحریک کے بغیر آٹھارہویں ترمیم، این ایف سی ایوارڈ ممکن نہیں تھا۔یہی وکلاء تحریک تھی جنہوں نے ایک آمر کو اقتدار چھوڑنے پر مجبور کیا اور پورے پاکستان پر احسان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کی نئی لہر اٹھ رہی ہے، اگر وقت پر روک تھام نہیں کی گئی تو خطرناک نتائج سامنے آسکتے ہیں۔بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کی نئی لہر تشویشناک ہے۔ریاست سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس نئی لہر کی جانب توجہ دیںاور ان واقعات کو روکیں۔گذشتہ لہر کی طرح اس بار بھی واقعات ہورہے ہیں اور خدشہ ہے کہ وہ حالات دوبارہ نہ آئیں۔40سال پہلے جو غلط فیصلے کئے گئے تھے ان کے نتیجے میں ہم ایک مصیبت اپنے گھر لے آئے جس کی بڑی قیمت چکانی پڑی۔ہم پشتون مزید اس کے متحمل نہیں ہوسکتے کیونکہ خون بھی ہمارا بہا اور بدنام بھی ہمیں کیا گیا۔

سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ ضم اضلاع میں ترقیاتی منصوبے شروع کرنے ہوں گے، گھروں کو آباد کرنا ہوگا، انکے خدشات کو دور کرنا ہوگا۔آج بھی ضم اضلاع میں کئی مسائل موجود ہیں، انضمام کے بعد بھی انتظامی، عدالتی، مالی مسائل موجود ہیں۔ضم اضلاع کے عوام کے اعتماد کے فقدان کو ختم کرنا ہوگا، عوامی شکایتوں کا ازالہ کرنا ہوگا۔ لاپتہ افراد بارے ان کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کو عدالتوں میں پیش کیا جائے، ہم کسی لاپتہ فرد کو رہا کرنے کی بات نہیں کررہے،یہ نہیں ہوسکتا کہ کسی کو غیرقانونی طور پر حراست میں لیا جائے اور ورثاء کو معلوم ہی نہ ہو کہ وہ زندہ بھی یا مرگیا ہے۔لاپتہ افراد کی تعداد میں اضافہ ریاست پر اعتماد کم کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چارٹر آف پاکستان، چارٹر آف ڈیموکریسی بھی ضروری ہے لیکن چارٹر آف پختونخوا بھی انتہائی ضروری ہوچکا ہے۔تمام پشتون قیادت سے گزارش کریں گے کہ متحد ہو کر مسائل کا حل تلاش کریں اور بنیادی نکتوں پر متفق ہوجائیں۔عدالتی نظام اور موجودہ صورتحال پر انکا کہنا تھا کہ عدالت عظمیٰ کا ایک جج اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہا ہو تو ہماری جنگ کون لڑے گا؟ آج یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ جسٹس فائز عیسیٰ جیسے ججز بددیانت ہے،اثاثے چھپائے ہیں۔ پورے پاکستان، عوام اور عدالتی نظام کو کو آج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جیسے ججز کی ضرورت ہے۔عدلیہ کی آزادی پر حملہ کیا گیا تو وکلاء میدان میں نکلے تھے، اگر پھر حملہ کیا گیا،وکلاء نکلیں گے تو اے این پی بھی میدان میں نکلے گی۔

امیرحیدر خان ہوتی نے مزید کہا کہ پاکستان کے تمام مسائل کا حل آئین کی بالادستی میں ہے، آئین میں تمام اداروں کے حدود مقرر کئے گئے ہیں۔اداروں سے جنگ نہیں چاہتے لیکن ہر ادارے کو آئین میں درج اختیارات و حدود سے تجاوز نہیں کرنی چاہئیے۔

افغان امن عمل پر گفتگو کرتے ہوئے امیرحیدر خان ہوتی نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان کا امن ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم ہے، افغان امن عمل کی کامیابی امن کیلئے ضروری ہے۔افغان امن معاہدہ کے باوجود تشدد میں اضافہ پریشان کن صورتحال کی عکاسی کررہا ہے۔امن معاہدے کی کامیابی مکمل جنگ بندی کے بغیر ممکن نہیں،تمام افغان سٹیک ہولڈرز کو امن عمل کا حصہ بنانا ہوگا۔افغان امن عمل ”افغان اونڈ’ اور ”افغان لِڈ” ہوں گے، پاکستانی حکومت کو بھی اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔افغانستان اور پاکستان میں اعتماد کا فقدان موجود ہے،اعتماد بحالی کے بغیر مشکلات اور مسائل کا حل موجود نہیں۔اعتماد کے فقدان کے زیادہ اثرات پاکستان اور بالخصوص پختون خطے پر ہوں گے۔