پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ ویڈیو ثبوت آنے کے بعد بھی صفائیاں دینا سمجھ سے بالاتر ہے، وزیرقانون کو ان کی پہلی پارٹی بھی اسی جرم کے پاداش میں نکال چکی ہے۔ویڈیو آنے کے بعد بھی انکوائری کا ڈھول پیٹنا عوام کے آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔

سینیٹ انتخابات میں ووٹوں کی خریدوفروخت سے متعلق ویڈیو سامنے آنے پر ردعمل دیتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ انکوائری کی ضرورت نہیں، موصوف قوم سے معافی مانگے اور توبہ تائب ہوجائے تو شاید انہیں معافی مل جائے۔صرف استعفیٰ کافی نہیں، انہیں تاحیات نااہل اور جیل بھیجنا چاہئیے۔ضمیر بیچنے والے کا عام کاغذ پر استعفیٰ دینا اور کریڈٹ لینا شرمناک فعل ہے۔اب بھی صفائی کی باتیں کرنا احمقوں کے جنت میں رہنے کے مترادف ہے۔

ایمل ولی خان نے کہا کہ انکوائری کی باتیں کرنا صرف عوام کو ٹرخانے کیلئے ہے، آج تک کس انکوائری کی رپورٹ پر عمل ہوا ہے۔بی آر ٹی پر وزیراعلیٰ کی اپنی انسپکشن ٹیم کی رپورٹ میں کرپشن کی نشاندہی کی گئی، کس کے خلاف کارروائی ہوئی؟ خیبرپختونخوا میں ڈرائی کلین ہونے کا آسان طریقہ پی ٹی آئی میں شمولیت ہے۔

اے این پی کے صوبائی صدر کا کہنا تھا کہ سینیٹ انتخابات میں ووٹ فروخت کرنے، ایک پارٹی سے نکالنے کے بعد پی ٹی آئی میں شمولیت اور اہم وزارت دینا نئے پاکستان میں ہی ممکن ہے۔