پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے ضلع سوات سمیت شمالی علاقہ جات کے تمام متاثرہ اضلاع کو آفت زدہ قرار دینے اور انکے لئے خصوصی پیکج کے اعلان کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمود خان کا اپنا ضلع انکا منتظر ہے۔ بارشوں کی تباہ کاریاں اب بھی جاری ہیں لیکن حکومتی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

باچاخان مرکز پشاور سے جاری بیان میں اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا کہ ضلع سوات میں بارشوں نے تباہی مچادی ہیں، وزیراعلیٰ، وزراء اور حکومتی اراکین منظرنامے سے مکمل طور پر غائب ہیں۔ سوات اور بالخصوص مدین میں سیلابی صورتحال ہیں۔ کاروباری مراکز تباہ ہوچکے ہیں۔ گھروں کو بے تحاشا نقصان پہنچ چکا ہے، سڑکیں کھنڈرات میں تبدیل ہوگئی ہیں، باغات کو بھی شدید نقصان پہنچ چکا ہے، ندی نالوں میں طغیانی کے باعث سڑکوں کا نظام درہم برہم ہوچکا ہے اور کئی علاقوں کے درمیان رابطے منقطع ہوچکے ہیں۔

اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا کہ صرف مدین میں آٹھ افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ کئی زخمی افراد زیرعلا ج ہیں۔ حکومت کی جانب سے صرف جاں بحق افراد کیلئے پانچ لاکھ روپے کا اعلان کیا جاچکا ہے لیکن گھروں، باغات اور کاروباری مراکز کیلئے ابھی تک کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ سوات سے وزیراعلیٰ ، حکومتی اراکین پشاور جبکہ وفاقی وزیر اور ایم این ایز اسلام آباد کے دفاتر میں بیٹھ کر عوام کی تباہی کا تماشا دیکھ رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ کو اپنے ضلع کا دورہ کرنے کی بھی توفیق نصیب نہیں ہوئی۔

ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ امداد زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ جو گھر تباہ ہوئے ہیں انکو دوبارہ بناکر پی ٹی آئی پچاس لاکھ گھر بنانے کا آغاز سوات سے ہی کردے۔سوات کے حکومتی نمائندوں کیلئے جلد عوام ہی کی جانب سے تلاش گمشدہ کے اشتہارات چھاپے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور کارکنان حکومت میں نہ ہونے کے باوجود میدان میں کھڑے ہیں اور سوات کے عوام کے ساتھ جتنا ہوسکے گا، مدد جاری رکھیں گے۔