پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان کی زیرصدارت باچاخان مرکز پشاور میں ہونیوالے صوبے کے تمام اضلاع کے ضلعی کابینوں کا اجلاس منعقد ہوا جس میں متعدد قراردادیں منظور کی گئیں۔ اجلاس میں صوبائی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا گیا کہ نئے شامل ہونیوالے اضلاع میں تھری جی اور فورجی سروس کی فوری بحالی یقینی بنائی جائے اور نئے اضلاع کے تمام تر اختیارات سول انتظامیہ کے سپرد کئے جائیں۔ انضمام کیلئے غیور پختونوں نے لازوال جدوجہد کی ہے، یہاں کے عوام کو انضمام کے ثمرات سے مستفید ہونا وقت کی ضرورت ہے اور اس میں مزید تاخیر بدنیتی پر مبنی ہے۔ اجلاس میں پرزور مطالبہ کیا گیا کہ سیلاب اور شدید بارشوں سے متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دیا جائے ۔فوت ہونے والے افراد کے لواحقین کے ساتھ مالی معاونت کی جائے اور ذاتی اور قومی املاک کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کیا جائے۔ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جائے۔ ذاتی املاک کو پہنچنے والے نقصانات کا تخمینہ لگا کر بلاتاخیر متاثرین کی مالی معاونت کی جائے،۔ قرارداد میں کہا گیا کہ متاثرین کی بروقت مالی معاونت حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن حکومت اپنی ذمہ داری نبھانے میں ناکام رہی ہے، جسکی پرزور مذمت کی جاتی ہے۔اے این پی کے ضلعی کابینوں کے اجلاس میں قرارداد کے ذریعے کہا گیا کہ صوبے میں بڑھتی ہوئی بدامنی کے واقعات اور دہشت گردوں کا دوبارہ منظم ہونا قابل تشویش ہے۔ حکومت خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہی ہے اور عوام کو ایک دفعہ پھر دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑا جارہا ہے۔ آئے روز کے واقعات نے صوبے کے عوام میں خوف و ہراس پیدا کردیا ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کو عملی بنانے کے لئے تمام سٹیک ہولڈرز کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ مرکز سے بجلی کے خالص منافع کے حصول کیلئے تمام تر آئینی فورمز استعمال کئے جائیں اور اس سلسلے میں صوبائی حکومت بھی اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرے۔ایس اوپیز کے تحت تعلیمی ادارے فوری طور پر کھول دیے جائیں اور پنجاب کے تعلیمی اداروں میں ضم اضلاع و بلوچستان کے پشتون طلبہ وطالبات کیلئے کوٹہ بحال کیا جائے۔ اجلاس کے دوران یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ خیبرپختونخوا میں بے روزگاری نے عوام کو سخت مشکلات سے دوچار کردیا ہے۔ روزگار اور آمدن بڑھانے کیلئے بند صنعتی یونٹس کھولنے کا بندوبست کیا جائے۔ افغانستان کے ساتھ بند تجارتی راستے فوری طور پر کھول دیے جائیں۔ صوبے میں معدنیات، گیس اور پٹرول کی آمدنی میں صوبے کا آئینی حق تسلیم کیا جائے۔این ایف سی ایوارڈ فوری طور پر جاری کیا جائے، میگا کرپشن سکینڈلز کا احتساب کیا جائے اور پشتو زبان کو نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ اجلاس میں قرارداد کے ذریعے یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ فنکاروں کی ابتر صورتحال کے حوالے سے صوبائی حکومت فوری اقدامات اٹھائے۔ ٹڈی دل سے متاثرہ اضلاع کو آفت زدہ قرار دیا جائے اور یونیورسٹیوں کی مالی معاونت کی جائے۔