پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے ترجمان میاں افتخارحسین نے مطالبہ کیا ہے کہ آئی جی سندھ کے ساتھ پیش آنیوالے واقعے کی شفاف تحقیقات کراکے ملوث افراد کو کڑی سزا دی جائے۔ سندھ پولیس کے افسران کے ساتھ پیش آنیوالا واقعہ افسوسناک ہے کیونکہ پولیس فرنٹ لائن پر لڑنے والی فورس ہے جنہوں نے ہر محاذ پر قربانیاں دی ہیں۔سندھ میں مریم نواز کے ساتھ پیش آنیوالا واقعہ خواتین میں احساس عدم تحفظ میں اضافے کا باعث بن سکتا تھا۔

میاں افتخارحسین نے کہا کہ ایک خاتون کے کمرے میں دروازہ توڑ کر اندر داخل ہونا باعث شرم فعل تھا۔مریم نواز کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آسکتا ہے تو ملک کی دیگر خواتین کیا سوچیں گی؟چادر و چاردیواری کے تقدس اور تحفظ کی ضمانت پاکستان کا آئین دیتا ہے، یہ ایک غیرآئینی اقدام تھا۔بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ کا آئی جی پولیس و افسران کے ساتھ کھڑا ہونا انکا مورال بلند رکھے گا۔میاں افتخارحسین نے کہا کہ اتنے واقعات ہوئے لیکن سلیکٹڈ وزیراعظم پتہ نہیں کہاں غائب ہوچکے ہیں؟۔انہیں شاید خبر ہی نہیں کہ سندھ میں اتنا کچھ ہوا، اسی لئے ہم ان سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے نکلے ہیں۔وزیراعظم کا عہدہ پورے پورے ملک کیلئے ہوتا ہے لیکن نام نہاد وزیراعظم نے وزیراعلیٰ سے رابطہ کیا نہ ہی آئی جی پی سے رابطہ کیا۔ایک صوبے میں ناروا عمل جاری تھا ،وفاقی حکومت اور انکے ترجمان روکنے کے بجائے مزید ہوا دے رہے تھے۔

وفاقی حکومت ملک کو انارکی کی طرف لے جانے کی کوشش کررہی ہے۔وفاق کی جانب سے یہ عمل صوبائی خودمختاری پر حملہ ہے جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائیگا۔چیئرمین پی پی کی جانب سے پریس کانفرنس اور واضح موقف عوام کی جیت ہے۔

بلاول کا تحقیقات کا مطالبہ، آرمی چیف کا نوٹس، وزیراعلیٰ کے بھی تحقیقات کا جلد سے جلد نتائج سامنے آنے چاہئیں۔ ترجمان پی ڈی ایم کا کہنا تھا کہ آئی جی پی اور دیگر افسران کی جانب سے چھٹی کی درخواست ملک میں افراتفری کا باعث بن سکتا تھا۔

پی ڈی ایم اس واقعے کی جلدازجلد تحقیقات اور ملوث افراد کو سزا دینے کا مطالبہ کرتی ہے۔پی ڈی ایم کی تحریک اس قسم کے اقدامات سے روکا نہیں جاسکتا، شیڈول کے مطابق جلسے ہوں گے۔تحریک میں اختلاف پیدا کرنے کی کوشش کی گئی جو ناکام ہوئی ، پی ڈی ایم مزید مضبوط ہوچکی ہے۔