پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ تمام اپوزیشن جماعتوں نے مل کر سلیکٹڈ حکمرانوں کے خلاف طبل جنگ بجا دیا ہے، 22 نومبر کو پشاور میں دما دم مست قلندر ہوگا، دھاندلی کی پیدا کردہ حکومت اب زیادہ دن نہیں چلے گی۔

اے این پی کے صوبائی صدر و ڈائریکٹر باچا خان ٹرسٹ ایمل ولی خان نے باچا خان سکول چارسدہ میں باچاخان ہائی سکول چارسدہ میں تشکیل کردہ انجمن کے پہلے اجلاس کے بعد صوبائی جنرل سیکرٹری سردارحسین بابک اور صوبائی ترجمان ثمرہارون بلور کے ہمراہ پریس کانفرنس کر تے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایم کا حصہ ہے اور الیکشن کے بعد پہلے دن سے ہی یہ مطالبہ رہا ہے کہ یہ حکومت قوم پر دھاندلی کے زور پر مسلط کی گئی ہے، ملک میں نئے سرے سے صاف شفاف اور مداخلت سے پاک انتخابات کروائے جائیں اور اسی شرط کے ساتھ ہم پی ڈی ایم کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں اپنے اپنے نظریے کی تحت اپنا سیاسی سفر کرتی ہے۔

اے این پی نے کسی اور کی خوشی کے لئے اپنے نظریے پر پہلے سمجھوتہ کیا ہے اور نہ اب کرے گی۔ اے این پی اپنی سو سالہ تاریخ رکھتی ہے اور اپنی قوم اور ملک کے لئے جدوجہد جاری رکھے گی۔

ایمل ولی خان نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں نیب کا کردار متنازعہ ہے، حکومت نیب کو اپنا آلہ کار بنا کر سیاسی مخالفین کو دیوار سے لگانے کے لئے استعمال کر رہی ہے ، احتساب ہر کسی کا ہونا چاہیئے چاہے وہ جج ہو، جرنیل ہو یا صحافی ہو، اے این پی بلا تفریق احتساب کی حمایت کرتی ہے اور بہت پہلے اے این پی کے مرکزی صدر اسفندیارولی خان یہ آفر دے چکے ہیں کہ آغاز ہم سے کیا جائے لیکن بلاتفریق اور بلاامتیاز احتساب کیا جائے۔ سلیکٹڈ احتساب ہمیں منظور نہیں۔

نئے تشکیل کردہ انجمن بارے اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا کہ باچا خان نے 100 سال پہلے قوم کے بچوں کے مستقبل کے لئے جو قدم اٹھایا تھا آج اس کی تجدید کر رہے ہیں۔ پورے پختونخوا بشمول بلوچستان کے پشتون اضلاع اور افغانستان میں باچا خان ٹرسٹ کے تحت قوم کے بچوں کو مفت تعلیم فراہم کریں گی۔جن بچوں کے سروں پر اللہ کے سوا کسی کا سایہ نہیں ، ان کے سر پر باچا خان ٹرسٹ کا سایہ ہے اور ہمیشہ قائم رہے گا۔