پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی ترجمان ثمرہارون بلور نے کہا ہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے زیراہتمام پشاور جلسے کو روکنے کی کوشش کی گئی تو اسلام آباد کا رخ بھی کیا جاسکتا ہے۔ مرکزی و صوبائی حکومتیں رکاوٹیں پیدا کرنے سے گریز کریں۔ اس قسم کے ہتھکنڈوں سے اپوزیشن جماعتوں کو مرعوب نہیں کیا جاسکتا۔

پشاور پریس کلب میں صوبائی انفارمیشن کمیٹی کے اراکین رحمت علی خان، حامد طوفان، میاں بابرشاہ اور ڈاکٹر زاہداللہ خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ثمرہارون بلور نے کہا کہ ہر حال میں پشاور جلسہ ہوگا، اگر کسی نے روکنے کی کوشش کی تو پلان بی بھی بن چکا ہے۔ حکومت کی جانب سے 21نومبر جلسہ ایک دھوکہ تھا جو پی ڈی ایم پشاور جلسہ خراب کرنیکی سازش تھی۔ سوات جلسہ میں کورونا نہیں تھا، گلگت بلتستان انتخابی مہم میں بھی کورونا پھیلنے کا خدشہ شاید موجود نہیں تھا لیکن آج کورونا وبا پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے اور دوسری جانب دہشتگردی کے واقعات کے تھریٹ الرٹس بھی جاری کئے جارہے ہیں۔

اے این پی کی صوبائی ترجمان کا کہنا تھا کہ پشاور جلسہ میں ماسک اور سینیٹائزر فراہم کریں گے، حکومتی جلسوں میں ایس او پیز پر عمل ہی نہیں ہوا۔پشاور میں 22نومبر کو ہونیوالے جلسے کیلئے تیاریاں جاری ہیں،مرکزی و صوبائی حکومت رکاوٹیں پیدا کررہی ہیں۔حکومت ان ہتھکنڈوں سے باز آجائیں کیونکہ لوگوں میں برداشت کا مادہ ختم ہوچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا بیرونی قرضہ ستمبر 2020ء میں 113ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے ۔سٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2018ء میں بیرونی قرضہ 95ارب ڈالر تھا ۔پی ٹی آئی کی نااہل حکومت میں پاکستان تاریخ کا بدترین مقروض ہوچکا ہے،حکومت صرف اپوزیشن کو نشانہ بنانے میں مصروف ہے۔بے روزگاری کی شرح 2018 میں 5.8فیصد تھی جو آج 8.5فیصد سے زیادہ ہوچکی ہے۔ ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ کرنے والے بے روزگاری میں 50فیصد سے زائد کا اضافہ کرچکے ہیں۔

ثمرہارون بلور نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات پر حکومت اپنی جیبیں گرم کرنے کیلئے زیادہ سے زیادہ لیوی وصول کررہی ہیں۔22نومبر جلسہ سرخ پوش کارکنان کا جلسہ ثابت ہوگا، جلسہ گاہ میں ہر طرف سرخ ہی سرخ رنگ نظر آئے گا۔

اے این پی کی صوبائی ترجمان نے نوشہرہ میں پیش آنیوالے واقعے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے حکومت سے زخمیوں کے بہترین علاج معالجے اور مدد کی فراہمی کا بھی مطالبہ کیا۔