پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ حکومت کی غلط پالیسیوں کے بدولت ملک معاشی طور پر دیوالیہ ہونے کے قریب ہے۔حکومت کے غلط فیصلوں سے قومی خزانے کو بار بار اربوں روپے کا نقصان پہنچایا جارہا ہے۔

باچاخان مرکز پشاور سے جاری بیان میں اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ گندم اور چینی میں ملک اور قوم کو 400ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا، کیا کسی وزیر یا مشیر کے خلاف کارروائی کی گئی؟ ایل این جی کے معاملے پر اپوزیشن رہنمائوں کو نیب کے ذریعے ٹارگٹ کیا گیا، حکومت سے پوچھنے والا کوئی نہیں۔پاورسیکٹر میں حکومتی غلط فیصلوں اور فیصلوں میں تاخیر سے قومی خزانے کو 122 ارب روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔اس حکومت کے پہلے دن سے قومی خزانے کو بار بار اربوں روپے کا نقصان اپنوں کو نوازنے کیلئے پہنچایا جارہا ہے۔

ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ ایک طرف قرضوں میں اضافہ دیکھا جارہا ہے تو دوسری جانب فیصلوں میں تاخیریا نہ کرنے سے اربوں روپے ضائع کئے گئے۔ سستی ایل این جی خریدنے میں تاخیر سے 35ارب روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ سب کچھ میڈیا پر رپورٹ ہوچکا ہے،نیب سمیت تمام احتسابی ادارے ذمہ داران کے خلاف کب کارروائی کریں گے۔اپوزیشن رہنمائوں کو الزامات پر گرفتار کرنیوالا نیب حکومتی کرپشن کو نظر انداز کررہی ہے۔اسی لئے روز اول سے ہمارا موقف ہے کہ نیب کو سیاسی انتقام کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔نیب میں اتنی جرات نہیں کہ بی آر ٹی، مالم جبہ، بلین ٹری سونامی اور اب پاور سیکٹر میں کی گئی کرپشن پر سوال تک اٹھائے۔