پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و ڈپٹی اپوزیشن لیڈر سردارحسین بابک نے کہا ہے کہ صوبے میں صحت کا نظام تباہ ہوکر رہ گیا ہے، ہسپتالوں میں دوائیاں اور ضروری آلات موجود نہیں، صوبے کے کونے کونے میں سینئر ترین ڈاکٹرز مستعفی ہورہے ہیں اور باقی ماندہ بھی اسی ماحول میں سرکاری ملازمت چھوڑنے پر تیار ہوگئے ہیں۔

باچاخان مرکز پشاور سے جاری بیان میں اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردارحسین بابک کا کہنا تھا کہ صوبے کے ہسپتالوں کا حال بدترین ہوچکا، تبدیلی سرکار نے صوبے کے صحت کے نظام کو پچھلے سات سال سے تجربہ گاہ بنادیا ہے۔ صوبے کے بڑے ہسپتالوں میں بڑے پیمانے پر کرپشن جاری ہے، بڑے اور تاریخی ہسپتال لیڈی ریڈنگ ہسپتال کرپشن کا آماج گاہ بن گیا ہے۔ غریب مریض اپنے علاج کیلئے رل رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تبدیلی سرکار نے ایک طرف صوبے میں صحت کارڈ کا برائے نام اجراء کردیا ہے جبکہ دوسری جانب سرکاری ہسپتالوں کوایک منظم کوشش اور سازش کے ذریعے تباہ و برباد کردیا گیا ہے۔ بڑے ہسپتالوں کے کروڑوں، اربوں روپیہ کے آلات کی خریداری میں بڑے کرپشن کے قصے زبان زد عام ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تبدیلی سرکار کے دور حکومت میں دوسرے شعبوں کی طرح صحت کو بھی بے پنا نقصان پہنچایا گیا ہے، اس نظام کو ٹھیک کرنے میں کئی سال لگیں گے۔

سردارحسین بابک نے مزید کہا کہ حکومت عوام کی ضرورت اور اصلاحاتی عمل کے تقاضوں کے برعکس بنی گالا کے ہدایات پر عمل پیرا ہے جسکی وجہ سے صوبے کے صحت کے نظام کے ساتھ کھلواڑ کھیلا گیا۔ صوبے کے عوام صحت کے نظام کو تباہ کرنیوالے کپتان کی سونامی کو کبھی نہیں بھولیں گے اور عوام انہیں کبھی معاف نہیں کریں گے،عوام جان چکے ہیں کہ تبدیلی سرکار نے ہر طرف سے صوبے کو تباہ و برباد کردیا ہے۔