پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں جب سے پی ٹی آئی کی حکومت آئی ہے، ہر سال ترقیاتی بجٹ آدھ سے زیادہ ضائع ہوجاتی ہے۔ ترقیاتی بجٹ کا استعمال نہ ہونا نااہلی نہیں تو کیا ہے؟

باچاخان مرکز پشاور سے جاری بیان میں اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا کہ رواں مالی سال صوبائی حکومت ترقیاتی بجٹ کا 71فیصد حصہ استعمال نہ کرسکی جو اس صوبے کے غریب عوام کے ساتھ ظلم کی انتہا ہے۔ 236ارب روپے میں صرف 69ارب روپے کا استعمال ہونا صوبے کے عوام کے ساتھ ناروا سلوک کا نیاباب ہے۔ اسکے ساتھ ساتھ ضم اضلاع کو بھی یکسر نظرانداز کیا گیا ہ اور صوبائی بجٹ میں ان علاقوں کی ترقی کیلئے مختص 83ارب میں سے صرف 12ارب روپے خرچ کئے جاسکے۔

وہاں احساس محرومی بڑھتی چلی جارہی ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ انضمام کے ثمرات کی عدم فراہمی سے عوام کو انضمام ہی سے بدظن کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ یہ پہلی بار نہیں کہ فنڈز آدھے سے زیادہ ضائع ہوجاتے ہیں بلکہ ہر سال یہی ہوتا چلا آرہا ہے۔ گذشتہ سال بھی ترقیاتی بجٹ کے 181ارب روپے میں سے صرف 65ارب روپے خرچ کئے گئے تھے۔

انہوں نے سوال پوچھتے ہوئے کہا کہ عمران خان اور اسکی ٹیم اب بتائے کہ صوبے کی ترقی سے موجودہ حکومت کو کون روک رہا ہے؟ کیا اٹھارہویں ترمیم ترقیاتی بجٹ کے استعمال سے روک رہا ہے؟ اٹھارہویں ترمیم کے خلاف سازش کرنے سے پہلے اپنے بزدار پلس کی بھی خبر لینی چاہیے۔

اب فیصلہ عوام ہی نے کرنا ہے کہ صوبے کی ترقی میں اصل رکاوٹ اٹھارہویں ترمیم ہے، نالائق اعظم یا بزدار پلس۔