پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ اگر اٹھارہویں آئینی ترمیم کو چھیڑا گیا تو سلیکٹڈ کے ساتھ سلیکٹرز بھی سن لیں کہ ہم سانحہ بابڑہ، ٹکر، ہتھی خیل،قصہ خوانی اور لیاقت باغ کے شہداء کے وارث ہیں، اس بار بھی اپنے حقوق کیلئے کسی بھی قسم کی مصلحت کا شکار نہیں ہوں گے اور اپنے حقوق کیلئے مزاحمت کی آخری حد تک جائیں گے۔

باچاخان مرکز پشاور سے جاری بیان میں اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر صوبائی خودمختاری، این ایف سی ایوارڈ سمیت اٹھارہویں آئینی ترمیم کے کسی ایک شق کو بھی چھیڑا گیا تو اس بار عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنان کے احتجاج کا میدان راولپنڈی کا لیاقت باغ ہوگا جہاں اس سے پہلے بھی اسی تحریک کے قائدین پر گولیاں تو چلائی گئیں لیکن اپنے حقوق ،مطالبات اور حق کے راستے سے انہیں کبھی بھی پیچھے نہ کیا جاسکا۔

ایمل ولی خان نے کہا کہ بظاہر نہیں لگ رہا کہ مقتدر قوتیں 18ویں آئینی ترمیم کو رول بیک کرسکیں گے لیکن پس پردہ یہ کوششیں روز اول سے کی جارہی ہے کہ کسی بھی طرح اٹھارہویں آئینی ترمیم کو رول بیک کیا جائے۔

اے این پی مقتدر قوتوں پر بھی یہ بات واضح کرنا چاہتی ہے کہ اس ترمیم میں کوئی بھی ردوبدل برداشت نہیں کیا جائیگا۔ اگر سلیکٹرز سلیکٹڈ کے ذریعے یہ شوشہ چھوڑ رہے ہیں کہ 18ویں آئینی ترمیم میں خامیاں موجود ہیں، تو یاد رکھیں کہ یہ ترمیم تمام سیاسی جماعتوں کے مسلسل 40 روز اجلاسوں کے بعد ترتیب دیا گیا جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندے موجود تھے۔