کوئٹہ(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر و صوبائی پارلیمانی لیڈر اصغر خان اچکزئی نے دسویں قومی مالیاتی کمیشن کی تشکیل پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دسویں قومی مالیاتی کمیشن کی تشکیل پر ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا صوبے کی جانب سے بطور رکن غیر مقامی شخص کی نامزدگی ناقابلِ قبول ہے اور اسے صوبائی خودمختاری پر قد غن اور اٹھارویں ترمیم کو رول بیک کرنے کا دانستہ حربہ سمجھتے ہیں صوبائی حکومت اس طرح کے سنجیدہ اہم حل طلب معاملات میں تمام اسٹیک ہولڈرز بالخصوص اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کے پابند ہے پارٹی صوبائی حقوق پرڈاکہ ڈالنے اور اٹھارویں ترمیم کو رول بیک کرنے کسی سازش کا حصہ نہیں بنے گی بلکہ ہر اس عمل کی برملا مخالفت کر ے گی جو چھوٹی قومیتوں کے حقوق ہڑپ کرنے پر منتج ہو۔

اصغر خان اچکزئی نے کہا کہ وفاقی حکومت شروع دن سے صوبائی خودمختاری سلب کرنے اٹھارویں ترمیم کو رول بیک کرنے کے لیے پر تول رہی تھی اور کسی موقع کی تلاش میں تھی شاید اشرافیہ کی اسی خواہش کی بنا انہیں “سلیکٹ” کیا گیا۔حالیہ دسویں قومی مالیاتی کمیشن کی کی تشکیل انتہائی عجلت میں کی گئی اوریہ آئین کی رو سے غیر قانونی اور آئینی سے متصادم ہے بلوچستان اور پشتون خوا سے غیر مقامی افراد کا چنا ماورائے آئین ہے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کا حصہ ہونے کے ناطے ہمیں اس مسئلے پر اعتماد میں نہیں لیا گیا صوبائی حکومت پابند ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں کو ان جیسے اہم اور حل طلب معاملات سے پہلے انہیں اعتماد میں لیں

انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کے اکابرین نے دیگر قوم دوست جمہوری قوتوں کے ساتھ مل کر صوبائی خودمختاری کے لئے طویل صبر آزماجدو جہد کی ہے اسی طرح اٹھارویں ترمیم کے نفاذ میں بھی پیش پیش رہی ہے لہذا پارٹی اس حوالے سے بڑی واضح موقف رکھتی ہے اور کسی صورت ان جیسے غیر آئینی عملیات کا حصہ نہیں بن سکتی۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں کسی کی ذات سے کوئی غرض وغایت نہیں اور نہ اس بنیادپر کسی کی مخالفت درست سمجھتے ہیں لیکن غیر مقامی فرد کی نامزدگی کو صوبائی حقوق پر ڈاکہ اور اسے سوا کروڑ افرادکی توہین کے مترادف عمل سمجھتے ہیں جس پر کسی صورت خاموش نہیں رہ سکتے۔ عوامی نیشنل پارٹی کودسویں قومی مالیاتی کمیشن کی تشکیل اور اس میں بطور ممبر غیر مقامی شخص کی نامزدگی پر شدید تحفظات ہیں