پشاور( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ تبدیلی سرکار میں آئے روز سکینڈلز کا سامنے آنا ثابت کررہا ہے کہ ان کا خاتمہ اب ضروری ہوگیا ہے۔ پہلے آٹا چینی بحران، پھر آئی پی پیز اور اب جان بچانے والی ادویات کی جگہ طاقت کی دوائیاں درآمد کرنے کا سکینڈل سامنے آچکا ہے لیکن ہم اب بھی توقع نہیں رکھتے کہ یہ حکمران کسی بھی وزیر، مشیر یا دوسرے قصور وار شخص کو سزا دے سکیں گے۔ ولی باغ چارسدہ سے جاری بیان میں اے این پی کے صوبائی صدر کا کہنا تھا کہ ایک طرف پاکستان کے بچے بچے کو کتابوں اور تعلیمی اداروں سے لے کر ڈراموں اور فلموں تک میں بھارت کو ازلی دشمن قرار دیا جارہا ہے لیکن موجودہ حکومت عام دوائیاں، ملٹی وٹامنز بھارت سے درآمد کرتے ہیں اور پھر معاون خصوصی برائے صحت اس فہرست یا اس کارروائی سے لاعلمی کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ کیا موجودہ حکمران یہ بتانا پسند فرمائیں گے کہ یہ فیصلے کون کروارہا ہے؟ایمل ولی خان نے کہا کہ اس سے پہلے ایک وزیرصحت کو کرپشن کے الزام پر بڑی خاموشی کے ساتھ فارغ کیا گیا لیکن تحقیقات نہیں کی گئیں کہ اس وقت دوائیوں کی قیمتوں میں 200فیصد اضافہ کیوں ہوا؟ یوٹرن خان کی عادت نہیں بدلی کیونکہ فراغت کے کچھ عرصہ بعد وہی لوگ کابینہ اراکین منتخب ہوجاتے ہیں۔ دوسروں پر کرپشن کے الزامات لگانے والے کپتان کی پوری ٹیم اور کپتان خود کرپشن کے دلدل میں پھنس چکے ہیں لیکن بدقسمتی سے احتساب کے ادارے اور بالخصوص نیب ان تمام معاملات پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہی ہے۔انہوں نے ایک بار تمام حکومتی اراکین کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ تمام تحقیقاتی ادارے مل کر اے این پی دور حکومت ہی نہیں بلکہ جب سے سیاسی میدان میں قدم رکھا ہے، خاندان کے کسی فرد ، کسی وزیر یا عام رکن صوبائی و قومی اسمبلی پر کرپشن کے الزامات ثابت کرکے دکھائیں تو جیسے پہلے کہہ چکے ہیں، سزا نہیں پھانسی دی جائے۔