پشاور( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین نے کہا ہے کہ موجودہ حالات ہم سے اتحاد کا تقاضا کرتا ہے، جس طرح اے پی ایس کے واقعے کے بعد مشترکہ لائحہ عمل اپنایا گیا اور سیاسی اختلافات سے بالاتر تمام سٹیک ہولڈرز ایک پیج پر آگئے تھے اسی طرح آج بھی کورونا سے نمٹنے کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز کو ایک میز پر بیٹھنا ہوگا،یہ اقدام اٹھانا حکومت کی ذمہ داری تھی لیکن بدقسمتی سے انکی طرف سے کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔پاکستان پیپلزپارٹی کے زیراہتمام آل پارٹیز کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے میاں افتخارحسین نے کہا کہ اسفندیارولی خان نے خرابی صحت کی وجہ سے کانفرنس میں ویڈیو کے ذریعے شرکت نہیں کی، اے این پی نے دس دن پہلے ہی تمام سیاسی سرگرمیاں معطل کردی ہیں تمام سیاسی جماعتیں بھی اپنی تمام سرگرمیاں معطل کریں۔میاں افتخارحسین نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ آج ملک میں جاری وبا کے پھیلائو کو روکنے کیلئے عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔آج جو اچھا کام کررہے ہیں پورے ملک کو ان کی تقلید کرنی ہوگی تاکہ عوام کی جان و مال کی حفاظت ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ابھی تک برائے نام لاک ڈائون ہے، یہاں تک کہ پشاور میں بھی کاروبار ہورہے ہیں،مارکیٹیں اور بازار کھلے ہیں جو کسی بھی خطرے سے کم نہیں، صرف ٹرانسپورٹ کے حد تک بند کرنے سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ دنیا کے 196ممالک میں کورونا وائرس پھیل چکا ہے، یہ ایک وبا ہے جس کو وبا کی شکل میں ہی لینا ہوگا۔ پاکستان کی بدقسمتی یہ ہے کہ جب بیرونی امداد کا اعلان ہوا تو یہاں بھی شورشرابا شروع کیا گیا جس سے لوگوں کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا ہوئے، اگر پہلے دن سے اس مسئلے کو سنجیدہ لیا جاتا تو لوگوں میں کوئی شک و شبہ نہ پھیلتا، اب کسی بھی شک و شبہے کی گنجائش نہیں ، حکومت کی جانب سے تاخیر نے شکوک و شبہات کو جنم دیا لیکن کورونا ایک حقیقت ہے ۔اے این پی کے مرکزی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت سب سے زیادہ رول ماڈل قیادت کی ضرورت ہے، بلاول بھٹو زرداری نے آل پارٹیز کانفرنس بلا کر ایک بنیاد رکھ دی ہے، پاکستان کیلئے اگلے دو ہفتے انتہائی خطرناک ہے جسے ذہن میں رکھتے ہوئے حکمت عملی اپنانی ہوگی۔اجتماعات ،مارکیٹوں، دکانوں سمیت لوگوں کے میل ملاپ، مصافحے پر پابندی لگانی ہوگی۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹروں سمیت دیگر پیرامیڈیکل سٹاف کو بھی ضروری سہولتیں فراہم کی جائیں تاکہ ڈاکٹر اسامہ شہید کی طرح مزید جانیں نہ گنوائی جائیں۔اسکے ساتھ ساتھ ملک بھر میں وینٹی لیٹرز کی تعداد کو بڑھانا ہوگا تاکہ زیادہ سے زیادہ زندگیاں بچائی جاسکیں۔ موجودہ صورتحال میں میڈیا کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ٹی وی، ریڈیو، اخبارات کو ذریعہ بنا کر آگاہی پیغامات کے ذریعے لوگوں میں آگاہی پیدا کی جائیں، بلکہ میڈیا کو مثبت پیغام دینے کیلئے جنگ جیو گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان کو بھی رہا کیا جائے تاکہ میڈیا کو آزادی رائے کا احساس دلایا جاسکے۔عوام کو بہتر اور آسان پیغام دینے کیلئے مادری زبانوں کا استعمال ہونا چاہیے کیونکہ پاکستان میں بہت سے شہری شاید اردو کے پیغامات اس طرح نہیں سمجھ سکیں گے جس طرح مادری زبان کا پیغام انکے لئے مئوثر ہوگا۔ مادری زبانوں میں پیغامات سے عام اور دور دراز علاقوں کے باسیوں میں آگاہی پیدا ہوگی۔انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ لاک ڈائون کے وقت غرباء کا خصوصی خیال رکھنا ہوگا، انکے لئے عملی طور پر اشیائے خوردونوش فراہم کرنے چاہیئے، یہی ہماری ذمہ داری ہے۔ اسکے ساتھ ساتھ داخلی و خارجی راستوں پر ماسک، سینیٹائزرز اور ہاتھ دھونے کا بندوبست ہونے سے بھی اس وائرس کا پھیلائو روکا جاسکتا ہے۔کورونا کے خلاف منفی پروپیگنڈے بارے میاں افتخارحسین نے کہا کہ اس کے خلاف سخت سے سخت ایکشن لینا ہوگا کیونکہ یہ اس قوم کے دشمن ہیں۔ضم اضلاع بارے اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ وہاں پہلے سے ہی ضروریات نہ ہونے کے برابر ہیں، انکے فنڈز صوبے کے پاس ہیں، یہی وقت ہے کہ ان کو تمام سہولیات بہم پہنچانے ہوں گے تاکہ مزید تباہی سے بچایا جاسکے۔کورونا سے آگاہی کیلئے مسجد و منبر کا مثبت استعمال بھی کرنا ہوگا جو اس وبا کے پھیلائو سے روکنے میں مددگار ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ کورونا کے متاثرین ڈی جی خان پنجاب سے درازندہ ڈی آئی خان لانا ایک خطرناک فیصلہ تھا کیونکہ وہاں کے باسیوں تک بھی یہ وائرس ضرور پہنچے گا۔ میاں افتخارحسین نے مطالبہ کیا کہ حکومت ہر غریب کیلئے کم سے کم 9ہزار روپے ماہانہ وظیفہ مقرر کرے، اسکے ساتھ ساتھ مخیر اور صاحب ثروت افراد بھی اس صورتحال میں اپنا کردار ادا کرے۔