پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے جیو اور جنگ گروپ کے ایڈیٹرانچیف میر شکیل الرحمان کی نیب کی طرف سے گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی گرفتاری عمران خان اور نیب کا گٹھ جوڑ ہے اور اگر نیب اتنا ہی با اختیار ادارہ ہے تو وہ حکمران پارٹی کے اسمبلی میں بیٹھے ہو ئے ممبران کے خلاف کاروائی کیوں نہیں کرتی جن پر بڑے بڑے کرپشن کے الزامات ہیں۔ پشاور پریس کلب میںمیڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اصل میں حکومت میڈیا ایڈوائس کے ذریعے اپنی مرضی کی آواز سنناچاہتی ہے جو جمہوری دور میں آزادی صحافت پر کاری ضرب ہے۔ انہوں نے کہا کہ میر شکیل الرحمان کی گرفتاری سے حکومت کی آزادی صحافت کے خلاف دوغلی پالیسی عیاں ہو چکی ہے اور اس طرح کے ہتھکنڈوں سے حکومت حق و سچ لکھنے والوں کا گلہ گھونٹ چاہتی ہے جسکی عوامی نیشنل پارٹی بھر پور مذمت کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب صحافی برادری پر یہ بات واضح ہو چکی کہ اشتہارات بندش کے نام پر اصل میں صحافیوں کو بے روزگار کر کے صحافت کوکمزور کرنا تھا۔انہوں نے کہا کہ میر شکیل الرحمن کی گرفتاری نیازی نیب گٹھ جو ڑ ہے ۔حکومت اپنی ناکامی چھپانے کیلئے نیب کو اپوزیشن کے خلاف استعمال کررہی ہے ،اصل انکوائری نیب کے خلاف ہو نی چاہیئے ۔میر شکیل الرحمن کی گرفتاری حکومت ان میڈیا ہائوس کے آواز دبانے کی کوشش کررہا ہے جو حکومت کی ناکامیاں عوام تک پہنچا رہی ہے ،انہوں نے کہا کہ اب تک نیب کے گرفتار تمام افراد سے نہ تو کوئی معلومات حاصل کی گئیں اور نہ ہی ان پر کوئی کرپشن ثابت کرسکا جس سے ثابت ہورہا ہے کہ نیب کو حکومت صرف اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کر رہی ہے ۔ میر شکیل الرحمان کی گرفتاری سے نہ صرف حکومت کا دوغلا چہرہ بے نقاب ہوا بلکہ ان کے آزادی صحافت کے دعوے بھی عوام کے سامنے آشکارا ہوئے۔