پشاور( پ ر) برصغیر پاک و ہند کے ممتاز شاعر، ادیب، مصور، فلسفی اور سیاستدان خان عبدالغنی خان کی 24ویں برسی کے موقع پر باچاخان مرکز پشاور میں ایک روزہ ”غنی میلہ” کا اہتمام کیا گیا جس میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔میلہ کے پہلے حصے میں پینٹنگ مقابلوں کا انعقاد کیا گیا جس میں خیبرپختونخوا کے مختلف آرٹس کالجز سے 15طالبعلموں نے حصہ لیا اور ‘د غنی رنگونہ” کے عنوان سے اپنی فکر و خیال کو کینوس پر اتارا۔

دوسرے مرحلے میں عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان سمیت دیگر مہمانان گرامی نے غنی خان کی سیاسی،ادبی اور مصوری کے فنون پر گفتگو کی۔ اس موقع پر اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا کہ بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر، ادیب، دانشور، مصور، مجسمہ ساز، فلسفی اور سیاستدان غنی خان ایک ایسی ہستی کا نام تھا جو بے شمار خوبیوں کی مالک تھی اور زندگی سے جس طرح انہوں نے حظ اٹھایا اس سے ان کے جاننے والے اور پڑھنے والے واقف ہیں۔اپنی بے باک شاعری کے ذریعے غنی خان نے معاشرے کے ناسور اور برائیوں کی نشاندہی کی۔شاعرانہ مزاج میں انفرادیت غنی خان کا خاصہ تھا،مصوری میں بھی وہ بے مثال تھے۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ غنی خان کی شعر وشاعری میں وہ سب چیزیں ہیں جس پر آج دنیا عمل پیرا ہے ۔باچا خان نے ہمیشہ پشتونوں کو صحیح راستہ متعین کرنے کی کوشش کی اور غنی خان نے شاعری کے ذریعے اسی راہ کو اپنانے کا درس دیا۔صوبائی صدر اے این پی کا کہنا تھا کہ غنی خان نے اپنی شاعری کوفلسفہ نہیں بلکہ فلسفے کو شاعرانہ زبان اور انداز بخشا ہے، اپنے مفکرانہ ذہن، شاعرانہ مزاج اور جرات رندانہ سے کام لیتے ہوئے اپنی قوم کو حیات و کائنات کے بارے میں نئے نئے عقلی اور سائنسی سوالات کی راہ پر چلنے کی ہمت اور زبان بخشی اور اپنے پڑھنے والوں میں ایک تجسس اور بے قراری پیدا کی ۔اس موقع پرپروفیسر ڈاکٹر اباسین یوسفزئی، پروفیسر ڈاکٹر احمد علی عاجز، سابق ایم این اے پرویز احمد خان ،غنی خان کے نواسے مشال خان، امیر رزاق امیر نے غنی خان کو منظوم و منثور طور پر خراج عقیدت پیش کیا۔پروگرام کے آخر میں پینٹنگ مقابلے جیتنے والوں کونقد انعامات اور توصیفی اسناد دیے گئے۔میلے کے تیسرے حصے میں پشتو کے نامور گلوکاروں فیاض خان خیشگی، ماسٹر علی حیدر، سرفراز اور بلاول سید نے غنی خان کا کلام پیش کیا۔