پشاور( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیارولی خان نے جنگ اور جیو گروپ کے سربراہ میرشکیل الرحمان کی نیب کی جانب سے گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انکی گرفتاری نیب نیازی گٹھ جوڑ کا نیا کارنام ہے، 30سالہ پرانے کیس میں انکی گرفتاری افسوسناک ہی نہیں بلکہ آزادی رائے پر حملہ ہے۔ سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے بعد اب میڈیا کو کنٹرول کرنے کیلئے نیب کا استعمال کیا جارہا ہے۔ باچاخان مرکز پشاور سے جاری بیان میں اے این پی سربراہ نے میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی انتقام کے بعد نیازی حکومت نیب کے ذریعے اب میڈیا کو نشانہ بنارہا ہے۔ عمران نیازی حکومتی نااہلی اور ناکامی پر تنقید برداشت نہیں کرسکتا اسی لئے اب ان ٹی وی چینلوں پر حملے کئے جارہے ہیں جو سچ بولنے کی کوشش کررہے ہیں۔ میڈیا کی آزادی جمہوریت کا حسن ہے لیکن موجودہ حکومت میں تنقید برداشت کرنے کا مادہ ہی نہیں۔ اسفندیارولی خان نے کہا کہ میڈیا کی آزادی کیلئے جنگ اور جیو گروپ کے ساتھ کھڑے ہیں، عمران نیازی ا ب میڈیا سے انتقام لینے کی ناکام کوشش کررہا ہے جس میں انہیں کبھی بھی کامیابی نہیں ملے گی۔ نیب ایک انتقامی ادارہ بن چکا ہے اور بلاتفریق احتساب کے تمام نعرے کھوکھلے ثابت ہوچکے ہیں۔ 1986ء میں الاٹ کئے گئے پلاٹ اب نیب کو یاد آگئے، 30سالہ پرانا کیس کھودنے اور من گھڑت الزامات لگانے سے پہلے نیب حکومتی اراکین پر بنے کیسز کا بھی فیصلہ کریں۔ بلاتفریق احتساب کا عمل تب حقیقت بنے گا جب آٹا و چینی چور، بی آر ٹی اور مالم جبہ میں کئے گئے کرپشن کے کیسز کھلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نیب سیاسی انتقام میں اس قدر گرچکا ہے کہ حکومتی اراکین کو خوش کرنے کیلئے مرے ہوئے لوگوں کو بھی سمن جاری کئے جاتے ہیں۔ حکومتی ناکامی اب چھپ نہیں سکتی، میڈیا پر قدغن لگانے سے نیازی حکومت جمہوری اداروں کو مزید کمزور کررہا ہے۔