پشاور( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و ڈپٹی اپوزیشن لیڈر سردارحسین بابک نے کہا ہے کہ گومل یونیورسٹی سمیت دیگر تعلیمی اداروں میں حالات خراب سے خراب تر ہوتے جارہے ہیں۔ صوبے کے دوسرے بڑے یونیورسٹی میں بدعنوانی اور جنسی ہراسانی کے واقعات میں اضافہ تشویشناک ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی گومل یونیورسٹی کے طلباء کے مطالبات کی حمایت کرتی ہے اور مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت اور انتظامیہ مزید تاخیر کے بجائے طلباء کے جائز مطالبات کو جلد سے جلد تسلیم کرے ۔ انہوں نے کہا کہ پورے ملک کیلئے اوپن میرٹ مقامی طلباء کے حق پر ڈاکہ ہے، اسکے ساتھ ساتھ یونیورسٹی میں اساتذہ کی کمی کو فوری طور پر پورا کیا جائے۔ یونیورسٹیوں میں مالی بحران کے خاتمے کیلئے طلباء پر بوجھ ڈالنا ظلم ہے، فیسوں میں اضافہ واپس لیا جائے۔اسکے ساتھ ساتھ گومل یونیوسٹی کیلئے ٹرانسپورٹ کا مسئلہ حل کیا جائے کیونکہ وہاں کی بسیں ناکارہ ہوچکی ہیں۔ سردارحسین بابک نے کہا کہ ڈی ایم سی فیسز کم کرکے دیگر یونیورسٹیوں کی طرز پر کی جائیں۔ 2014ء سے 2017ء تک مستحق طلباء کے سکالرشپس کی رقم کون ہڑپ کرچکا ہے، اسکی فوری تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ داروں کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ یونیورسٹی میں ڈسپنسری کی غیرفعالیت بھی افسوسناک ہے، فوری طور پر ڈاکٹر کی تعیناتی یقینی بنائی جائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اساتذہ کی انتظامی عہدوں پر تعیناتی طلباء کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ ہے، انہیں واپس اپنے اپنے ڈپارٹمنٹس بھیج دیا جائے۔کرپشن اور بداخلاقی میں ملوث اساتذہ و دیگر سٹاف کے خلاف تحقیقات جلدازجلد مکمل کی جائے ۔ا نہوں نے مطالبہ کیا کہ جنسی ہراسانی میں ملوث ذمہ داروں کے خلاف فوری ایکشن لے کر انہیں عہدوں سے فارغ کیا جائے۔