پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ معاشرتی اقدار کو مدنظر رکھتے ہوئے خواتین کے حقوق کے داعی ہیں،ہم اپنی عورتوں کو گھروں میں قید کرنے والے لوگ نہیں ہیں نا ہی اس سے ہمارے نظریے کا دور دور تک کوئی واسطہ ہے۔ عورتوں کی عزت اور اُن کی حقوق کی پاسداری ہمارے پختون ولی اور مذہب کا اہم جزہے۔پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ یہاں اسلام،جہاد سب کچھ امریکہ سے امپورٹ کیا گیا ہے۔اسلام تنگ نظر مذہب نہیں ہے لیکن یہاں پر مذہب کو سیاسی فائدوں کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔جس فیصلے کا حق اللہ کو ہے اُس کا ٹھیکہ بھی اسلام کے ٹھیکہ داروں نے لیا ہوا ہے۔باچا خان مرکز پشاور میں پی ٹی آئی کے سابق ایم پی اے گل صاحب کی شمولیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ باچا خان فرماتے ہیں کہ اگر آپ نے ایک ملک کی ترقی دیکھنی ہو تو اُس قوم کی خواتین کی حالت زار دیکھ کر فیصلہ کریں،خواتین کی کردار سے کسی بھی وقت میں انکار نہیں کیا جاسکتا،رسول اللہ کے ساتھ خواتین نے شانہ بشانہ جہادوں میں حصہ لیا ہے،باچا خان نے جب پہلا مدرسہ قائم کیا تو سب سے پہلے اپنی بیٹی کو اُس مدرسے میں داخل کیا،بابڑہ کے مقام پر جب پختونوں کو کربلا کا سامنا کرنا پڑا تو مردوں کے ساتھ عورتیں بھی شانہ بشانہ کھڑی تھی،اُس وقت میری دادی تاجو بی بی بھی میدان میں تھی۔نیشنل عوامی پارٹی پر جب دوسری بار پابندی عائد کی گئی اور پختون قیادت کو جیلوں میں ڈال دیا گیا تو بیگم نسیم ولی خان اُٹھ کھڑی ہوئی اور انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی کو لیڈ کیا۔اسلام اور انسانیت نے خواتین کو اپنے حقوق دیے ہیں،اے این پی کسی صورت اُن حقوق کو پامال نہیں ہونے دیگی،ہم سب پر عورتوں کی عزت اور حقوق کی پاسداری لازم و ملزوم ہے۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ اے این پی پختونوں کے وسائل پر پختونوں کا حق چاہتی ہے،ہم ضلعوں کی سطح تک وسائل کے منصافانہ تقسیم پریقین رکھتے ہیں،ہم کرک کا حق کرک کیلئے ہی مانگتے ہیں،اے این پی کرک کے گیس رائیلٹی پر کرک کے حق کیلئے آخری حد تک جدوجہد کریگی۔پاکستان کے موجودہ اختیار مند انگریزوں سے بھی زیادہ جابر ہیں،انگریز پھر بھی ہمیں لسی یا مکھن میں کچھ دے جاتا تھا موجودہ اختیار مند طبقہ تو پختونوں کو نہ مکھن کھانے دے رہا ہے اور نہ ہی پختونوں کو اپنے وسائل میں لسی دی جارہی ہے،ہم کسی اور قوم کا حق نہیں مانگتے لیکن اپنے حقوق پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرینگے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر پختونوں کو اپنے حقوق پر اپنا حق چاہیے تو ہمیں گھر گھر جاکر پختونوں کو بیدار کرنا ہوگا اور اُن کو سمجھانا ہوگا کہ ہمارے حقوق پر پاکستان کی اشرافیہ قابض ہے ہمیں اپنے حقوق کو اُس اشرافیہ کے ہاتھوں سے نکالنا ہے۔گل صاحب خان کی شمولیت سے شہید بشیر احمد بلور کا خواہش آج پورا ہوا ہے،یہ بشیر احمد بلور کی خواہش تھی کہ گل صاحب خان اے این پی میں شامل ہو،گل صاحب کا شمولیت آغاز ہے،اس کے بعد مخالفین دیکھیں گے کہ کرک صرف اور صرف اب اے این پی کا ہوگا۔