پشاور( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے ایک بار پھر اعادہ کیا ہے کہ اگر اٹھارویں آئینی ترمیم کو چھیڑا گیا تو پشاور سے کارکنان قصہ خوانی، مردان سے ٹکر کے مقام پر اور جنوبی اضلاع کے کارکنان ہاتھی خیل کے میدان میں اکھٹے ہوں گے۔ جہاں بھی ہماری تاریخی یادگاریں موجود ہیں کارکنان اکھٹے ہوں گے اور سب سے بڑے احتجاج کا میدان راولپنڈی کا لیاقت باغ ہوگا جہاں ہمارے قائدین پہلے بھی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں۔

بلورہائوس پشاور میں صوبائی ترجمان ثمرہارون بلور، کابینہ اراکین اور بزرگ رہنما حاجی غلام احمد بلور کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا کہ موجودہ بدترین حالات کی سب سے بڑی وجہ 18ویں آئینی ترمیم پر من و عن عمل نہ کرانا ہے۔آج اگر گندم اور آٹے کا بحران ہے تو بھی وجہ اٹھارویں آئینی ترمیم پر عمل نہ کرانا ہے۔ صوبائی خودمختاری کے ساتھ چلنے والا پاکستان ہی ایک بہترین ، کامیاب اور ترقی کی جانب سفر کرنیوالا پاکستان ہوگا۔ پی ٹی آئی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ عمران خان ایک مہرہ ہے، پیچھے اور لوگ بیٹھے ہیں اور عمران خان سمیت پوری سلیکٹڈ حکومت جلد ایکسپوز ہوگی۔ موجودہ حکومت کورونا سے بھی زیادہ خطرناک ہے ، اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے کہ جلد اس سے نجات دلائے۔

پٹرول کی قلت پر گفتگو کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ آج ایک لٹر پٹرول کیلئے عوام ذلیل و خوار ہورہی ہے لیکن اس پر بات ہی نہیں کی جاسکتی کیونکہ ایک چیز ملک میں دستیاب نہیں تو اس پر بات کیسے کی جائے۔ آج اگر پٹرول کی قلت ہے کل کو ایسے حالات آئیں گے کہ جب سبزی بھی نہیں ملے گی۔

افغانستان بارے ایمل ولی خان نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان دونوں کو ایک دوسرے کی خودمختاری کا احترام کرنا چاہیے اور امن عمل میں اسی خودمختاری کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کو بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔

اس موقع پر انہوں نے نومنتخب صوبائی ترجمان ثمرہارون بلور کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ بلور فیملی کو خیبرپختونخوا کی پہلی خاتون ترجمان کا اعزاز حاصل ہے۔ ثمر بلور ہمارے مستقبل کی تصویر ہے۔ ولی باغ اور بلور ہائوس کے درمیان رشتہ مضبوط تھا، ہے اور رہے گا۔