پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیارولی خان نے نئے مالی سال کے بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیا ٹیکس نہ لگانے کے دعویداروں نے پانچ ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگادیے ہیں اور غریب عوام کو ریلیف دینے کی بجائے ان سے مزید وصولی کیلئے کمر کس لی ہے۔ گذشتہ سال ریونیو ہدف کو زیادہ سے زیادہ رکھا گیا جسکی ہم نے مخالفت کی تھی اور سال بھر کمزور و ناقص پالیسیوں کی وجہ سے اقتصادی حالت بہتر نہیں ہوسکی۔

باچاخان مرکز پشاور سے جاری بیان میں اے این پی سربراہ نے کہا ہے کہ حکومت کی ناکام معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ریونیو ہدف پورا نہ کیا جاسکا جس کا بوجھ عوام پر ہی ڈالا گیا۔گذشتہ بجٹ میں ساڑھے پانچ ہزار ارب روپے ریونیو کا ہدف رکھا گیا تھا ، ہمارا موقف اس وقت بھی یہی تھا کہ بوجھ عوام پر پڑے گا ۔ حکومت کی ناکام اقتصادی پالیسیوں اور بعد میں کورونا وبا کی وجہ سے وہ ہدف حاصل نہیں کیا گیا، یہی وجہ تھی کہ پورے سال ناکام پالیسیوں کی وجہ سے اقتصادی حالت کمزور ترین رہی۔

اسفندیارولی خان نے کہا کہ وفاقی حکومت کی کمزور معاشی صورتحال کی وجہ سے خیبرپختونخوا کو بجلی کا خالص منافع نہیں ملا اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی خیبرپختونخوا کو اربوں روپے کے خسارے کا سامنا ہے۔ اس خسارے کو کم کرنے کیلئے یا تو قرضے لینے ہوں گے یا ترقیاتی منصوبوں کو ختم کرنا ہوگا جس سے نقصان صرف عوام کا ہوگا۔موجودہ بجٹ پیش کرتے وقت ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے آئی ایم ایف کی جانب نہ دیکھتے لیکن پھر بھی عالمی مالیاتی ادارے کے ایماء پر کم و بیش پانچ ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگائے گئے جو ایک بار پھر عوام سے ہی وصول کئے جائیں گے۔بے روزگاری اور غربت کی شرح بڑھتی چلی جارہی ہے لیکن حکومت ان دونوں معاملات کو درست سمت لے جانے کیلئے کوئی منصوبہ سامنے نہ لاسکی۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ این ایف سی ایوارڈکا فوری اجراء کیا جائے تاکہ صوبوں کو ان کا حصہ مل سکے اور اس ضمن میں صوبوں کے جو خدشات ہیں وہ دور ہوسکیں۔اسفندیارولی خان نے کہا کہ صحت کیلئے محض 20ارب اور تعلیم کیلئے صرف ساڑھے چار ارب روپے مختص کرنا افسوسناک ہے۔