پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی سیکرٹری ثقافت خادم حسین نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے کورونا وبا کے دوران فن، فنکار اور ثقافت سے وابستہ افراد کو نظر انداز کرنا افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے ثقافت سے وابستہ حلقے کسمپرسی کی حالت میں ہیں۔

باچاخان مرکز پشاور سے جاری بیان میں اے این پی خیبرپختونخوا کے سیکرٹری ثقافت خادم حسین نے مطالبہ کیا کہ صوبائی حکومت جلد ازجلد ثقافت سے وابستہ افراد کیلئے پانچ مہینوں کے ایک جامع پیکج کا اعلان کرے۔ کلچر صوبوں کے زیرانتظام وزارت ہے ، دیگر صوبوں نے فنکاروں کیلئے کسی نہ کسی حد تک ریلیف پیکج منظور رکروائے ہیں لیکن خیبرپختونخوا حکومت کو ابھی تک اسکی توفیق نصیب نہیں ہوئی۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلی نے گذشتہ روز محکمہ ثقافت کی جانب سے بھیجی گئی ایک سمری مسترد کردی ہے جس میں فنکار برادری کیلئے ریلیف پیکج دینے کی تجویز دی گئی تھی۔

خادم حسین کا کہنا تھا کہ ناکام پالیسیوں کی وجہ سے صوبے میں خدانخواستہ فن اور فنکار کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ جائیگی۔ صوبے کے سینکڑوں فنکار زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔اس مشکل گھڑی میں اے این پی صوبے کے تمام فنکاروں، ہنرمندوں اور ثقافت سے وابستہ ہر فرد کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اے این پی نے اپنے دور حکومت میں فنکار برادری کیلئے نشترہال دوبارہ کھولا جسے بند کیا گیا تھا اور تمام ثقافتی سرگرمیاں بحال کیں۔ اے این پی نے مقدور بھر فن و ثقافت سے وابستہ حلقوں کیلئے سازگار ماحول مہیا کرنے کیلئے اقدامات کئے۔ثقافتی تخلیق اور ثقافتی پیداواری عمل کے بغیر کسی قوم اور معاشرے کی ترقی کا تصور ناممکن ہے۔موجودہ حکومت کی جانب سے فنکار برادری کے ساتھ امتیازی سلوک افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔اے این پی کے صوبائی سیکرٹری ثقافت کا کہنا تھا کہ عوامی نیشنل پارٹی ہمیشہ کی طرح فنکار برادری کے مسائل کو ہر فورم پر اٹھائے گی اور مشکل کی اس گھڑی میں انکے ساتھ کھڑی ہے۔