پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے پشاورکے علاقہ تہکال میں پولیس کی جانب سے عامر نامی نوجوان کو برہنہ کرنے، تشدد اور ویڈیو بنانے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف جوڈیشل تحقیقات اور سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اے این پی کسی بھی اندرونی انکوائری کو تسلیم نہیں کرے گی اور وکلاء کی تنظیم ملگری وکیلان اس سلسلے میں باقاعدہ قانونی جنگ لڑیں گے۔

باچاخان مرکز پشاور سے جاری بیان میں اے این پی کے صوبائی صدر نے نوجوان کے ساتھ اس قسم کا سلوک شرمناک اور افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کا یہ اقدام صرف ایک ادارے یا فرد کیلئے نہیں بلکہ ہر انسان کیلئے باعث شرم ہے۔ پولیس کے اندر بیٹھے ان جیسے غیرانسانی سوچ کے خلاف عملی اقدامات اٹھانے سے ہی اس قسم کے واقعات کی روک تھام ہوسکتی ہے۔

انہوں نے صرف چار اہلکاروں کی معطلی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کیا پولیس اپنے پیٹی بند بھائیوں کے خلاف انکوائری کرسکے گی؟ بالکل نہیں۔ اے این پی کسی بھی پولیس انکوائری کو تسلیم نہیں کرے گی۔ خیبرپختونخوا کی نام نہاد مثالی اور غیرسیاسی پولیس کو یہ کیس مثال بنانا ہوگا تاکہ کل پھر کسی بھی ادارے یا محکمے کی جانب سے انسانیت کی تذلیل نہ ہو۔انہوں نے ملگری وکیلان کے عہدیداران کو بھی ہدایت جاری کی کہ اس سلسلے میں تمام قانونی تقاضے پورے کریں اور ہر محاذ پر قانونی جنگ لڑنے کی تیاری شروع کرے۔

عامرآف تہکال کی جانب سے جو بھی کہا گیا اس کے خلاف قانونی کارروائی ہوسکتی تھی لیکن اس قسم کا عمل کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔