پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ پختون قوم کی زندگی اجیرن بنا کر رکھ دی گئی ہے، پوری قوم کو اپنی بقا کی جنگ میں متحد ہونا ہوگا۔ باڑہ ضلع خیبر میں سکول استاذ عرفان اللہ آفریدی کی ماورائے عدالت قتل کے خلاف دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے سردارحسین بابک نے کہا کہ بقا کی جنگ کیلئے ایک ساتھ کھڑا ہونے پڑے گا۔ صوبائی سینئر نائب صدر خوشدل خان، اراکین صوبائی اسمبلی شگفتہ ملک، صلاح الدین مومند، اے این پی خیبر کے صدر شاہ حسین شینواری، جنرل سیکرٹری چراغ آفریدی اور دیگر رہنما بھی انکے ہمراہ تھے۔ اپنے خطاب کے دوران سردارحسین بابک نے کہا کہ صوبائی صدر ایمل ولی خان کی خصوصی ہدایت پر آج آفریدی بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے اس دھرنے میں شرکت کی۔اسمبلی فلور پر بھی اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائی اور یہ ہمارا فرض تھا۔ حکومتی خاموشی اور دھرنا نظرانداز کرنے پر انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کی نااہلی اور نالائقی کے ساتھ ساتھ عوام کو نظرانداز کرنے کا سب سے بڑا ثبوت اور کیا ہوگا کہ کئی دنوں سے انصاف کے طلبگار سینکڑوں بلکہ ہزاروں افراد کا پوچھا تک نہیں گیا۔ پشتونوں کے قتل عام کا سلسلہ جاری ہے،کوئی بھی شخص ابھی تک بچا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ علمائے کرام، اساتذہ کرام، طالب علم، وکلاء اور سیاستدانوں کو چن چن کر مارا گیا اور کسی کو بھی نہیں چھوڑا گیا۔انہوں نے کہا کہ پشتون قوم کے بقا کی جنگ میں باچا خان بابا کے سپاہیوں سے زیادہ قربانیاں کس نے دی ہیں؟ کیا اس طرح کا واقعہ لاہور ، فیصل آباد اور ملتان وغیرہ میں ہوسکتا ہے؟ اور نہ ہونے کی ایک ہی وجہ ہے کہ ان میں اتفاق ہے۔ سردارحسین بابک نے کہا کہ یہ واقعہ دراصل آپ لوگوں کیلئے ایک پیغام ہے کہ ایک ہوجائے ورنہ ہمیں اسی طرح مارا جائیگا۔ انہوں نے سوال کیا شہید ایس پی طاہر داوڑ کو کس نے قتل کیا؟ اب تک انکے قاتلوں بارے کچھ نہیں بتایا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں کبھی اسلام تو کبھی پاکستانیت کے نام پر دھوکہ دیا جاتا ہے۔ الحمد للہ ہم مسلمان ہیں اور سب سے اچھے پاکستانی ہیں۔ کوئی اس مغالطے میں نہ رہے کہ ہمیں اس قسم کے فتووں سے ڈرایا جاسکتا ہے۔ اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ ضم اضلاع کے عوام کو ابھی تک موبائل، انٹرنٹ (تھری جی، فورجی) کی سہولت نہیں دی جارہی۔ اکیسویں صدی میں بھی ہمارے طالبعلم اس سہولت سے محروم ہیں۔ یہاں تک کہ ان علاقوں کے ساتھ وعدے وعید کئے گئے لیکن کوئی ترقیاتی منصوبے شروع نہیں کئے گئے۔ سردارحسین بابک نے کہا کہ ہم عرفان اللہ آفریدی کے گھرانے کے ساتھ دکھ درد کی اس گھڑی میں شریک ہیں اور وہ اپنے آپ کو اکیلا نہ سمجھے۔ اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس واقعے میں ملوث اہلکاروں کو سخت سے سخت سزا دی جائے اور دھرنے کے مطالبات مان لئے جائیں۔ انہوں نے دھرنا شرکاء کو یقین دلایا کہ اے این پی کے قائدین اور کارکنان آخری دم تک انکے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔