پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ انکے اکلوتے بیٹے نے اس مٹی کیلئے جام شہادت نوش کیا اور انکی قربانی کو رائیگاں نہیں دیں گے۔

گذشتہ روز نوشہرہ میں میاں راشد حسین شہید کی دسویں برسی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میاں افتخارحسین نے کہا کہ جب انکے بیٹے کو شہید کیا گیا تو اکثر لوگ یہی سوال کرتے تھے کہ ایک ہی بیٹا تھا لیکن ہم نے دہشتگردوں کے سامنے سینہ سپر ہو کر اس ملک اور مٹی کے دفاع کیلئے قربانیاں دی۔ اگر دس بیٹے بھی ہوتے تو اس دھرتی کے امن کیلئے قربان کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔

میاں افتخارحسین نے کہا کہ دہشت گردی کے اس پرخار راستے میں لاکھوں شہداء کا خون بہہ چکا ہے اور آج تک یہ سلسلہ جاری ہے۔اپنے تمام شہیدوں کے غم ابھی تک ہمارے ذہنوں میں اسی طرح موجود ہے جسے کسی صورت بھلایا نہیں جا سکتا ۔ اپنے بیٹے کو ایک دن کیلئے نہیں بھول سکا۔ انہوں نے تمام ساتھیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس مٹی کیلئے قربانی دینے والے ہر شہید کو یاد رکھا جائیگا۔جن دہشتگردوں نے ہزاروں بیگناہ لوگوں کا قتل عام کیا اور سینکڑوں بچوں کا خون بہایا، آج وزیراعظم کی کرسی پر براجمان شخص ان دہشتگردوں کیلئے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ احسان اللہ احسان ہو، اسامہ ہو یا کوئی اور دہشتگرد، ان کے خلاف پالیسی تبدیل کرنی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ قرض لینے پر خودکشی کو ترجیح دینے والے سیلیکٹڈ وزیراعظم نے اس ملک کو قرضوں تلے دبا دیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان بے اختیار ہے، اور اصل اختیار سیلیکٹرز کے پاس ہے جو عوامی مینڈیٹ کیساتھ ایک کھلا مذاق ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقتدر قوتیں اس ملک پر رحم کریں اور آئندہ بھی انتخابات میں22 کروڑ عوام کے مینڈیٹ کا احترام کریں کیونکہ اگر یہ عمل ختم نہ ہوا تو ملک کی بقا کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پڑوسی ممالک کیساتھ اچھے تعلقات استوار کرنے کی ضرورت ہے اگر ہندوستان کیساتھ کرتار پور راہداری کھولی جاسکتی ہے تو افغانستان کے ساتھ بھی چمن اور طورخم بارڈر کھولنے چاہیئے۔