پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ ضم اضلاع میں جاری مختلف تنازعات کے حل کیلئے حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے اقدامات نہ اٹھانا افسوسناک ہے، یہ صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے جو پوری نہیں کی جارہی لیکن عوامی نیشنل پارٹی اپنے عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور ان تنازعات کے حل کیلئے عملی اقدامات شروع کئے جاچکے ہیں۔

باچاخان مرکز پشاور میں لکی مروت سے مختلف سیاسی رہنمائوں اور کارکنان کی اے این پی میں شمولیت کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ ضم اضلاع تنازعات کے حل کیلئے بنائی گئی کمیٹی ان اضلاع کے دورے شروع کرچکی ہے ، مقامی عمائدین کے ساتھ مشاورت کے بعد پشتونوں کے مسائل عوامی نیشنل پارٹی ہی حل کرے گی۔ حکومتی غیرسنجیدگی نے ضم اضلاع کے عوام کو مایوس کیا ہے لیکن عوامی نیشنل پارٹی اپنے عوام کو یقین دلاتی ہے کہ انہیں مایوس نہیں کریں گے۔

ایمل ولی خان نے کہا کہ تمام انتظامی و مالی معاملات مقامی انتظامیہ کی ذمہ داری جبکہ حکومت کو انہیں سہولیات فراہم کرنے ہوں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ این ایف سی میں تین فیصد حصہ ضم اضلاع کیلئے دینے کا وعدہ ابھی تک پورا نہیں کیا گیا۔ وفاقی و صوبائی حکومتوں کی اولین ذمہ داری ہے کہ مقامی افراد کی احساس محرومی کو ختم کرنے کیلئے جلد از جلد تین فیصد حصہ فراہم کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اگر 100ارب روپے سالانہ کا وعدہ پورا کیا جاچکا ہوتا تو آج ضم اضلاع کی تقدیر بدل جاچکی ہوتی لیکن حکومتی عدم توجہ کی وجہ سے اب تک کوئی ترقیاتی کام شروع نہیں کئے جاسکے۔ اب بھی وقت ہے کہ وہاں کے عوام کی احساس محرومی ختم کرنے کے لئے ترقیاتی کام شروع کئے جائیں۔ انہوں نے ضم اضلاع میں بڑھتے ہوئے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر پاکستانی کا تحفظ ریاست اور حکومت کی ذمہ داری ہے۔ حکومت اور انتظامیہ مل کر عوام کا تحفظ یقینی بنائے کیونکہ عوامی مسائل اور انکے تحفظ کی جانب عدم توجہ سے معاملات مزید بگڑ جائیں گے۔

انہوں نے ایک بار پھر اعادہ کیا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے تحت تمام صوبائی معاملات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا۔ اگر صوبائی حکومت اپنے حقوق پر خاموش بھی رہے تو عوامی نیشنل پارٹی اپنے صوبے کے عوام کے حقوق کیلئے ہر میدان میں کھڑی رہے گی اور حقوق کی یہ جنگ جیتنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔