پشاور(پ ر) اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے پشاور کے بھرے عدالت میں قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے جہاں قانون اور آئین موجود ہے۔ کس طرح ایک عام شخص قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر کسی کی بھی جان لے سکتا ہے؟ ایسا لگ رہا ہے کہ یہ خار ناپرسان اور یہاں جنگل کا قانون ہے۔

باچاخان مرکز پشاور سے جاری بیان میں اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا کہ انتہائی تعجب خیز اور پریشان کن صورتحال بنائی گئی ہے کہ ایک شخص پر مقدمہ چل رہا ہے اور دوسرا شخص اپنا فیصلہ سنا کر ایک جج کے سامنے ملزم کو موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ اس واقعے کی بھی انکوائری ہونی چاہیے کہ کس طرح ایک شخص عدالت کے اندر پستول کے ساتھ داخل ہوسکتا ہے اور مقدمہ بھی ایک انتہائی حساس نوعیت کا ہو۔ ایسا لگ رہا ہے کہ قانون کی عملداری ختم ہوتی چلی جارہی ہے اور ملک میں انارکی کی صورتحال پیدا کردی گئی ہے۔

اے این پی کے صوبائی صدر کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات سے مذہبی جنونیت اور انتہاپسندی کو فروغ دیا جارہا ہے جسے روکنا ریاست اور حکومت کی ذمہ داری ہے۔ قانون اپنے ہاتھ میں لینے سے حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک منظم منصوبے کے تحت مذہبی جنونیت اور انتہاپسندی کو پروان چڑھایا جارہا ہے۔ عدم تشدد کے فلسفے پر عمل پیرا ہو کر ہی ہر ایک شہری کی جان و مال کو محفوظ بنایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف اس ملک بلکہ اسلام جیسے مقدس دین کو دنیا بھر میں بدنام کرنے کی سازش ہورہی ہے۔ دنیا ایسے مواقعوں پر ضرورت پوچھتی ہے کہ کیا اسلام میں ملزم کو اپنی صفائی اور عدالتی کارروائی تک زندہ رہنے کا حق بھی حاصل نہیں اور کوئی بھی قانون ہاتھ میں لے کر اسے مار سکتا ہے۔ ایسے واقعات کو نہ روکا گیا تو پوری دنیا میں پاکستان کے ساتھ ساتھ اسلام کی بھی بدنامی ہوگی۔