پشاور( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین نے کہا ہے کہ ادب کی ترویج میں خواتین کے کردار سے انکار ممکن نہیں، پشتو ادب اور قومی تحریک میں خواتین لکھاریوں نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ ہمارے پیغمبر مہربانۖ نے خواتین کے حقوق پر زور دیا، اسی راہ کو اپناتے ہوئے فخر افغان باچاخان نے خدائی خدمتگار تحریک میں خواتین کو نہ صرف شامل کیا بلکہ ”پختون” مجلہ نے الف جان خٹک اور سیدہ بشرٰی بیگم کی تحاریر کو دنیا تک پہنچایا۔ باچاخان مرکز پشاور میں چار کتابوں کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے میاں افتخارحسین نے کہا کہ باچاخان معاشرے کی ترقی میں خواتین کے کردار کے معترف تھے اور انہوں نے آغاز اپنے گھر سے کیا تھا جہاں بیٹے اور بیٹی میں کوئی فرق موجود نہیں تھا۔ خدائی خدمتگار تحریک میں بھی خواتین صف اول میں شامل رہیں۔ پختون مجلہ کے آغاز کے ساتھ ہی خواتین لکھاریوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی اور خواتین کے مسائل پر تحاریر کو ہمیشہ شائع کرتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ خوش آئند امر یہ ہے کہ پشتون معاشرے کے مرد حضرات اپنی خواتین کی پشت پر کھڑے ہیں اور کتابوں کی اشاعت سے لے کر تقریب رونمائی تک ہر قدم پر انکے شانہ بشانہ کھڑے نظر آرہے ہیں۔ اس قسم کی تقاریب کیلئے باچاخان مرکز ہر وقت حاضر ہے، ہر شاعر اور ہر ادیب کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ تقریب دوخواتین شعراء کلثوم زیب اور ساجدہ مقبول تنہاکے شعری مجموعوں، فرزانہ رسول صنم کے تحقیقی مقالہ اور اقبال حسین افکار کے سفرنامے کی رونمائی کی گئی۔