پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و ڈپٹی اپوزیشن لیڈر سردارحسین بابک نے کہا ہے کہ تبدیلی سرکار نے کرپشن کے خلاف نعروں پر لوگوں کو ورغلایا،سیاسی رہنمائوں کو بدنام کیا لیکن جب حقیقت کھل گئی تو خو اجتماعی کرپشن میں ملوث نکلی۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ نے تبدیلی سرکار کا چہرہ عوام کے سامنے عیاں کردیا ہے۔ کرپشن کے خاتمے کے اعلان پر حکومت میں آنے والی تبدیلی سرکار تھوک کی بنیاد پر اجتماعی کرپشن کر رہی ہے لیکن بد قسمتی سے احتسابی اداروں نے بھی چپ سادھ لی ہے۔ باچاخان مرکز پشاور سے جاری بیان میں سردارحسین بابک نے کہا ہے کہ صوبے میں احتساب کمیشن پر کروڑوں روپے خرچ کیے گئے اور پھرا سی احتسابی ادارے کو ختم کردیا گیا۔اب تبدیلی سرکار کی کرپشن کی داستانیں روز اخباروں کے زینت بنتی ہیں،عوام اور ان کے اپنے ممبران کھلے عام محفلوں میں اپنی حکومت کی کرپشن کے قصے سنارہے ہیں۔ حکومت اخلاقی جواز کھو چکی ہے اور عوام دن بدن بد ظن ہورہے ہیں لیکن تمام احتسابی اداروں کی نظریں صرف اپوزیشن کے علاوہ کسی حکومتی رکن یا وزیر کی کرپشن کی جانب نہیں جارہی۔ جس تیزی کیساتھ حکمران جماعت کی مقبولیت گری ہے شاید پہلے کسی حکمران جماعت کا نہیں ہوئی ہوگی۔ سردارحسین بابک نے کہا ہے کہ اے این پی پر الزامات لگانے والوں کو اب اپنی کرپشن نظر نہیں آرہی اور نہ ہی احتسابی ادارے ان کے خلاف کوئی اقدامات اٹھارہے ہیں۔تبدیلی سرکار کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے عوام کا جینا حرام کردیا ہے، مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام کو ذہنی مریض بنادیا ہے۔ عوام کی قوت خرید جواب دے گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبہ بھر میں ٹارگٹ کلنگ ، بھتہ خوری اور دن دیہاڑے ڈکیتیاں معمول بن گئی ہیں، نااہل اور نالائق حکومت نے عوام کا جینا محال کردیا ہے لیکن حکمران جماعت اور انکے سرمایہ دار ہمنوا دونوں ہاتھوں سے حکومتی تعاون سے وسائل لوٹ رہے ہیں۔ عمران خان کے دوست و احباب کی پانچوں انگلیاں گھی میں پڑی ہیں اور یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہورہا ہے کہ اجتماعی طور پر کرپشن کی جارہی ہے لیکن سب سے افسوسناک امر یہ ہے کہ اس اجتماعی کرپشن اور ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے بعد بھی احتسابی ادارے حکومتی اراکین کے خلاف کوئی کارروائی نظر نہیں آرہی۔