پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و ڈپٹی اپوزیشن لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ حکومت صوبے کے خراب مالی حالت کی وجوہات عوام کے سامنے لائیں،پچھلے سات سال سے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے غیر ذمہ دارانہ طرز حکومت کی وجہ سے عوام کے مسائل میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔باچا خان مرکز پشاور سے جاری اپنے بیان میں سردار حسین بابک نے کہا کہ گزشتہ سات سالوں کے دوران صوبہ بھر میں بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے،مہنگائی نے عوام کو ذہنی مریض بنادیا ہے۔ چھوٹے موٹے کاروبار تباہ ہو کر رہ گئے ہیں اور حکومتی وزراء اور ذمہ داروں کو عوام کے مسائل کی کوئی فکر ہی نہیں ہے۔ حکومتی وزراء صوبے کے مالی حالت کی وضاحت کیوں نہیں کرتے؟ صوبہ مالی طور پر دیوالیہ ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے طول و عرض میں ترقی کا نام و نشان نظرنہیں آرہا اور حکومتی نا تجربہ کاری اور لا پرواہی کیوجہ سے محدودوسائل کا بے جا استعمال جاری ہے۔ مشاورت کی اہمیت سے عاری حکومت اسمبلی کی بجائے بند کمروں میں فیصلے کرتی ہے جس کا خمیازہ غریب عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے تمام وعدے ہو ا ہوگئے ہیں اور حکمران عوام کے ساتھ کئے گئے وعدے بھول گئے ہیں۔ تبدیلی سرکار کی حکومت میں پاکستان اور خصوصاً پختونخوا سے باہر محنت مزدوری کیلئے جانے والوں کی تعداد میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے حالانکہ عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ عمران کی حکومت آنے کے بعد باہر ممالک میں مقیم پاکستانی باشندے واپس آئیں گے۔ سردار حسین بابک نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت نے تعلیم اور صحت کو کوئی توجہ نہیں دی اور یہی وجہ ہے کہ آج دونوں بڑے شعبے زبوں خالی کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری افسران کو بے جاتنگ کرنا اور آئے روز ایک جگہ سے دوسری جگہ تبادلوں نے سرکاری افسران کا مورال گر گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی بجٹ اور ممبران کا سمبلی نہ آنا حکومت کا عوامی مسائل میں دلچسپی نہ لینے کا ثبوت ہے۔ عوام موجودہ حکومت کی طرز حکمرانی میں تنگ آچکے ہیں اور تبدیلی سرکار کے آئے روز نت نئے تجربات نے عوام کومایوس کردیا ہے۔