پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کی بالادستی،جمہوریت کی بقاء اور حقیقی جمہوریت کیلئے اے این پی کے مطالبات تاریخی اور مثالی ہیں،یہ اے این پی ہی کے موقف کی جیت ہے کہ آج پارلیمنٹ فوج سے لیکر ہر ادارے کیلئے قانون سازی کررہی ہے،آرمی چیف کے توسیع کے معاملے پر عدالت کا فیصلہ بھی پارلیمنٹ کی بالادستی کی عکاس ہے،اب یہ پارلیمنٹیرینز کی ذمہ داری ہے کہ وہ پارلیمانی طریقہ کار کو سامنے رکھ کر موجودہ مسئلے کا حل نکالیں۔2018کے انتخابات پر اے این پی کے تحفظات ہیں اور رہیں گے لیکن اگر آج ہر معاملہ پارلیمنٹ میں جارہا ہے تو یہ جمہوریت کی جیت اور پارلیمنٹ کی بالادستی ہے،اختیارات پارلیمان کو منتقل کرنے کیلئے جدوجہد ایسی حالت میں بھی جاری رکھنی پڑتی ہے جب جمہوریت ایک برائے نام سی چیز رہ جاتی ہے۔باچا خان مرکز پشاور میں پشتو ادب کے ممتاز شاعر و قوم پرست لکھاری مرحوم ڈاکٹر خالق زیار کی تیسری برسی کے موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا کہ مرحوم ڈاکٹر خالق زیار باچا خان کے جدوجہد کا عملی نمونہ تھے،انہوں نے نہ صرف شعر و ادب کے ذریعے بلکہ اپنے شعبہ طب کے ذریعے بھی محروم و مظلوم طبقات کی خدمت کی ہے۔ مرحوم ڈاکٹر خالق زیار ولی خان کے اُس سوچ و فکر کے مجسم تھے جو توقعات ولی خان مرحوم نے پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے نوجوانوں سے وابستہ کیے تھے۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ پشتون شعراء اور ادیبوں کو قومی تحریک سے وابستگی کا سوچ و فکر خدائی خدمتگار تحریک سے وراثت میں ملا ہے،باچا خان کی سرپرستی میں شعراء اور ادیبوں نے عملی سیاست کا مظاہرہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر خالق زیار نے اپنی شاعری میں پختون وطن اور پختونوں کو تکرار کے ساتھ یاد کیا ہے۔ڈاکٹر خالق زیار کی تیسری برسی کے تقریب سے بحیثیٹ صدر ڈاکٹر خالق زیار کے بڑے بھائی رازق جان ایڈووکیٹ نے کہا کہ وہ اور اُن کا خاندان باچا خان مرکز انتظامیہ کی مشکور ہیں کہ انہوں نے پختونوں کے ہر دلعزیز شاعر ڈاکٹر خالق زیار کو یاد رکھا اور اُن کی یاد میں پروگرام کا انعقاد کیا۔تقریب سے مختلف مکتبہ فکر کے لوگوں نے بھی خطاب کیا۔