پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ صوبے کے یونیورسٹیوں میں باہر سے وائس چانسلرز تعینات کرنا صوبے کے افسران کے ساتھ زیادتی ہے اور یہ عمل صوبے کے ٹیلنٹ کو ضائع کرنے کے مترادف ہے،صوبائی حکومت صوبے کے عوام کے ساتھ زیادتی کا یہ رویہ ترک کردیں،وہ حقوق جو اے این پی نے سختیاں جھیلنے کے بعد حاصل کیے ہیں وہ اتنی آسانی سے واپس نہیں ہونے دیگی۔باچا خان مرکز پشاور سے جاری اپنے بیان میں میاں افتخار حسین نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت کا یہ خیال ہے کہ خیبرپختونخوا میں قابل اور اہل افسران کی کمی ہے یہی وجہ ہے کہ شعبہ تعلیم سے لیکر ہر دوسرے محکمے میں یہ کوشش کی جارہی ہے کہ صوبے کے افسران کو نظر انداز کرکے باہر سے افسران کو تعینات کیا جائے۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ اب بھی ایک سوچھی سمجھی سازش کے تحت پانچ یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز کی آسامیوں پر صوبے سے تعلق رکھنے والوں کی بجائے دیگر صوبوں کے امیدواروں کی تعیناتی کو ترجیح دی جارہی ہے،سرچ اینڈ سکروٹنی کمیٹی نے امیدواروں کی شارٹ لسٹنگ کردی ہے،انہوں نے کہا کہ ایبٹ آباد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی،وومن یونیورسٹی صوابی،یونیورسٹی آف ایگریکلچر ڈیرہ اسماعیل خان،ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ اور یونیورسٹی آف لکی مروت کیلئے خیبرپختونخوا کے قابل افسران کی بجائے دیگر صوبوں کے افسران کو ترجیح دی جارہی ہے جو کہ صوبے کے ساتھ سراسر زیادتی ہے،انہوں نے کہا کہ صوبے میں قابل اور اہل افسران کی کوئی کمی نہیں ہے،صوبائی حکومت کو یہ رویہ ترک کرنا ہوگا کہ وہ صوبے کے افسران کا مذاق اُڑاتے ہوئے اُن کو نظر انداز کریں اور اہم عہدوں پر دیگر صوبوں کے افسران کو تعینات کریں۔انہوں نے کہا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ صوبائی حکومت صوبے کے قابل افسران کو سزا دے رہاہے،سمجھ میں نہیں آتا کہ صوبے کے افسران سے کس بات کا نتقام لیا جارہا ہے؟اے این پی باہر سے افسران لانے کے اس پالیسی کی مخالف تھی اور آج بھی مخالف ہے،اے این پی صوبائی حکومت سے بھیک نہیں مانگ رہی بلکہ اپنے صوبے کا حق مانگ رہی ہے،وہ محکمہ تعلیم جو اٹھارویں آئینی ترمیم سے پہلے وفاق کے پاس تھا،اب ایک نئی شکل میں اُس کو وفاق کے ہاتھوں میں دیا جارہا ہے،اے این پی آسانی سے صوبے کے حقوق کو جانے نہیں دیگی کیونکہ بہت قربانیوں کے بعد اے این پی نے صوبوں کیلئے حقوق جیتے ہیں۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت اپنی کمزور پوزیشن کی وجہ سے اس سارے صورتحال میں تماشائی کا کردار ادا کررہی ہے کیونکہ یہ وفاقی حکومت کی پالیسی ہے کہ وہ خیبرپختونخوا کے حقوق اور وسائل پر اپنے دیگر صوبوں کے انوسٹرز کو خوش کر سکیں اور یہ نئی تعیناتیاں بھی انہی مہربانیوں کی کھڑی ہے۔