نوشہرہ(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم والے خود ناراض نہیں ہوئے بلکہ اُن کی ناراضگی کے پیچھے معنی خیز حالات ہیں،اگرصرف ناراضگی ہوتی تو بہت پہلے ناراض ہوچکے ہوتے،اُن کے گلے شکوے پرانے ہیں،اب اگلی باری دیگر اتحادیوں کی ناراضگی کا ہے،ایسے آثار نظر آرہے ہیں کہ شاید کپتان خود اسمبلیاں توڑنے کے حوالے سے سوچیں لیکن وقت آنے پر حالات اُن کے ہاتھوں میں نہیں رہیں گے کیونکہ کپتان کو جان لینا چاہیے کہ وہ اتنا با اختیار وزیراعظم نہیں ہے،اب اُس کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے۔نوشہرہ پبی میں باچا خان اور ولی خان کی برسی کے حوالے سے تحصیل پبی کے ذمہ داران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا کہ ملک کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ دیا گیا ہے،اگر کپتان کی حکومت نہ ہوتی تو ملک میں مہنگائی اس قدر نہ بڑھتی،دوسری طرف آئی ایم ایف کی جانب سے بیان جاری کردیا جاتا ہے کہ پاکستان کی اقتصادی حالت بہتر ہوگئی ہے اگر اقتصادی حالت کی بہتری یہی ہے تو چند ماہ بعد عوام کی ایسی چیخیں نکلیں گی کہ حکمرانوں کو حکومتی ایوانوں میں بھی پناہ نہیں ملی گی اور آئی ایم ایف کا خزانہ بھر جائیگا اور پاکستان کا خزانہ خالی ہوجائیگا،انہوں نے کہا کہ اگرپی ٹی آئی کی حکومت نہیں ہوتی تو مہنگائی اس نہج پر نہیں پہنچتی،کیونکہ عمران کا ایک ہی مقصد ہے کہ وہ کسی طریقے سے اپنے کرسی کو بچا کر رکھے باقی عوام کا اللہ ہی حافظ ہو۔میاں افتخار حسین نے مزید کہا کہ جب حکمرانوں کے احتساب کا وقت آیا تو اب حکمرانوں کی جانب سے یہ صدائیں بلند ہونے لگی ہے کہ احتساب کے قانون میں تبدیلی ناگزیر ہے،آج جب عمران کی باری ہے تو صوبے کے احتساب کمیشن کی طرح ملک کے احتسابی ادارے کو بھی ختم کیا جارہا ہے۔عوامی نیشنل پارٹی نیب کے کردار سے مطمئن نہیں ہے لیکن موجودہ حکومت کو بھی اب ڈر ہے کہ اُن کا وقت پورا ہونے پر اُن کے ساتھ وہی سب کچھ کیا جائیگا جو اسی حکومت نے نیب کے ذریعے اپوزیشن کے ساتھ کیا ہے۔میاں افتخار حسین نے باچا خان اور ولی خان کی برسی کے حوالے سے کہا کہ تمام مکتب فکر کے پختون کثیر تعداد میں فخر افغان باچا خان اور رہبر تحریک خان عبد الولی خان کی برسی میں شرکت کریں،یہ اُس باچا خان کی برسی منائی جارہی ہے کہ اُن کی وفات پر تین ملکوں نے سوگ منایا تھا۔باچا خان دلوں پر راج کرنے والے لیڈرتھے اسی وجہ سے پاکستان،بھارت اور افغانستان کی ریاستوں نے اُن کی وفات پر ایک ہی دن سوگ کا اعلان کیا تھا،بہت لوگوں نے کوشش کی ہے کہ باچا خان کی کردار کشی کریں لیکن روز بروز اُن کی عظمت میں اضافہ ہورہا ہے۔امریکہ جیسا پرتشدد ملک بھی اپنے بچوں سے انسان بنانے کیلئے اُن کو باچا خان نصاب میں پڑھاتے ہیں۔باچا خان کو پوری دنیا عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔باچا خان نے انگریز سامراج اور بعد میں پختون اور پسے ہوئے طبقات کے حقوق کیلئے 40سال سے زائد کا عرصہ جیلوں میں گزارا ہے۔ولی خان اس خطے کا سٹیٹسمین تھا،اُس سٹیٹسمین کو ریاست کے چند نام نہاد لیڈروں نے اپنے مفادات کے خاطر غدار قرار دیا تھا،ولی خان اس حوالے سے برملا کہا کرتا تھا کہ نام نہاد لیڈرز کے ہاتھوں میں پاکستان چلا گیا ہے جس کی وجہ سے آج تک پاکستان مسائل سے دوچار ہے۔اگر ولی خان نہ ہوتے تو 1973کا متفقہ آئین آج نہ ہوتا، ولی خان اگر صوبائی حقوق کے حوالے سے اپنے مطالبات کو کنکرنٹ لسٹ میں شامل نہ کرتے پاکستان کو کبھی متفقہ آئین نہیں مل سکتا تھا۔انہوں نے کہا کہ ولی خان نے پاکستان کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے مطالبات پر دس سال کے لیے مشروط طور پر رضامند ہوئے،بدقسمتی سے دس بعد بھی اُس پر عمل درآمد نہیں ہوا لیکن اسفندیار ولی خان نے اپنے دور حکومت میں اپنی کوششوں سے انہی مطالبات کو اٹھارویں آئینی ترمیم میں عملی شکل دی اور آج تمام یونٹس نے صوبائی خودمختاری حاصل کرلی ہے۔باچا خان اور ولی خان تمام پختونوں اور پسے ہوئے طبقات کے محسن ہیں،آج انہی اکابرین کی برسی منائی جارہی ہے لہذا تمام پختونوں اور محروم طبقات کی ذمہ داری بنتی ہے کہ باچا خان اور ولی خان کی برسی کو شایان شان طریقے سے منائے اور اُن کی برسی میں بھرپور طریقے سے شرکت کریں۔