پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ چائنہ کے شہر ووہان کی مختلف اعلیٰ درسگاہوں میں زیر تعلیم تقریباً 1300 پاکستانی طلبہ وہاں پھنسے ہوئے ہیں جن کو نکالنے کیلئے چائنہ حکومت کی اِجازت کے باوجود پاکستانی سفارتحانے کی طرف سے ابھی تک اقدامات نہیں اُٹھائے گئے ہیں۔ باچا خان مرکز پشاور سے جاری اپنے بیان میں میاں افتخار حسین کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکام نے ووہان سے سارے پاکستانیوں کو نکالنے کیلئے 14دن کا الٹی میٹم دیا تھا لیکن وہاں پر موجود پاکستانی طالبعلموں کے مطابق وہ کنفیوژ ہیں کہ یہ دو ہفتے کب سے شروع ہیں اور کب ختم ہو ں گے، یہاں ہم زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا اور کمروں میں بند ہیں لیکن سفارتحانہ کوئی ایکشن نہیں لے رہا، انہوں نے کہا کہ پھنسے ہوئے طلباء نے سفارتحانے کے فارم بھی پُر کرلیے ہیں، اُن کی سکریننگ بھی ہوچکی ہے، اُن کو کلیئر بھی قراردیا جاچکا ہے لیکن پھر بھی اُن کی واپسی کیلئے اقدامات نہیں اُٹھائے جا رہے جو کہ ایک تشویشناک امر اور ان نوجوانوں کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کے مترادف ہے۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ چائنہ کے شہر ووہان میں موجود بنوں سے تعلق رکھنے والے طالب علم امجد نے ویڈیو پیغام میں حکومت پاکستان سے اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ ابھی ہم وائرس سے محفوظ ہیں، تاخیر ہوئی تو ہمیں بھی یہ وائرس متاثر کرسکتا ہے، شبلی فراز کا چائنہ میں زیر تعلیم طلبہ کو پیسے اور خوراک بھیجنے کا بیان بھی جھوٹ پر مبنی ہے کیونکہ وہاں موجود طالبعلموں کا کہنا ہے کہ ہمیں پیسے نہیں چاہئیں بس پاکستان فوری طور پر خصوصی طیارے بھیج کر ہمیں پاکستان لے کرجائے، اگر پاکستان کے پاس پیسے نہیں تو ٹکٹ کے پیسے بھی ہم خود اداکریں گے لہذا جس طرح بھی ہو مزید تاخیر نہ کی جائے۔انہوں نے کہا کہ اس بیان کے بعد حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان طالبعلموں کو پاکستان لا کر محفوظ مقام پر رکھے لیکن اُن کی زندگیوں کیلئے ضروری ہے کہ اُن کو واپس لایا جائے۔