پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ پختونوں کے اتحاد کے لئے پختونوں کے دروازوں پر بھی جانے سے گریز نہیں کرینگے۔ عوامی نیشنل پارٹی نے پختونوں کے مسائل پر غوروفکر کے لئے جرگہ بلایا ہوا ہے جس میں تمام پختونوں کو بلایا جائے گا اور تمام مشکلات کے حل کیلئے مشترکہ جدوجہد کی جائے گی۔نشتر ہال پشاور میں مقبول شاعرہ کلثوم زیب کی کتابوں کی رونمائی اور باچا خان مرکز پشاور میں پختونخوا نائٹ کی تقریب سے خطاب کر تے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا کہ پشتو زبان میں کتابیں چھاپنا مستحسن عمل ہے۔ ادب تمام زندگی کا احاطہ کرتا ہے۔ ادب کے میدان میں موصوفہ کا بہت بڑا نام ہے۔مرکزی سیکرٹری جنرل اے این پی کا مزید کہنا تھا کہ کسی بھی دور میں کتاب کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ادب کی بے شمار صنفیں ہیں۔مزاحمتی ادب کو فروغ دینا چاہیے اوراس میں وقت کی عکاسی ہونی چاہیے۔شاعری ایک فن ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ودیعت کیا گیا تحفہ ہے۔ یہ اللہ کی نعمت ہے جسے قوم کیلئے استعمال ہونی چاہیے۔ شاعری کے ذریعے نئی پود کو شعور دینا ہو گا۔ شعور وہ لوگ دے سکتے ہیں جن میں شعور ہے جن لوگوں نے کام کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ رحمان بابا، غنی خان بہت بڑے شاعر تھے۔انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے پختون قوم میں بیداری پیدا کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس مٹی کا درد سمجھتے ہیں۔ لوگوں کو پتہ ہونا چاہیے کہ کون لوگ اس دھرتی کی خدمت کر سکتے ہیں۔اے این پی ایسا کبھی نہیں کر سکتی کہ خدمت کرنے والے لوگوں کو پیچھے کر کے غیر متعلقہ لوگوں کو آگے لائے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کے دور میں دہشتگردی بہت زیادہ تھی۔ ڈی سی اور انتظامیہ کہتی تھی کہ اگر آپ لوگ پروگرام کرتے ہیں اور پولیس کو خبر نہیں ہے تو امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کا اندیشہ ہوا تو ہمیں پھر مسئلہ ہو گا۔ ڈی سی اور انتظامیہ سے اجازت ہمیں ورثے میں ملی ہے، ہم نے اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیرثقافت کی خدمت کی ہے۔یہ دہشت گردی کا دور تھا۔اے این پی کو دھمکیاں دی جاتی تھیں کہ پروگرام کیا تو خیر نہیں۔انہوں نے کہا کہ اے این پی نے پہلی مرتبہ صوبے میں کلچر ڈائریکٹریٹ بنایا۔ خیبرپختونخوا میں کلچر ڈیپارٹمنٹ کیلئے فنڈ نہیں تھا۔یہ انفارمیشن کا حصہ ہوتا تھا، کبھی سپورٹس کا حصہ تھا۔ ہمیں جب اقتدار ملا تو نشتر ہال میں جالے لگے ہوئے تھے،تالے زنگ آلود ہو چکے تھے۔ اے این پی نے نشتر ہال کو کھلوایا اور ثقافتی سرگرمیاں شروع کر دیں۔ہم نے اپنے دور حکومت میں نشتر ہال اور فنکاروں کیلئے فنڈزمختص کیے۔ پھر رائے لی کہ اس کو کیسے چلانا چاہیے اس دوران نشتر ہال میں تھیٹر کا فیصلہ کیا گیا۔ باچا خان تحریک کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ تھیٹر قائم کیا۔پختونوں میں فن اور تھیٹر کا جذبہ ختم ہو چکا تھا۔وہ تھیٹر ہم نے خوشحال بابا اور رحمن بابا کی شکل میں سٹیج کیا۔ خدائی خدمتگار تحریک سو سال کی تحریک ہے۔ بہت پڑاؤ آئے، بہت تبدیلیاں آئی ہیں وقت بدلتا ہے اور نئے نئے تقاضے نکلتے ہیں۔اگر وہ بنیاد نہ ہوتی تو آج نئے پڑاؤ نہ ہوتے۔میاں افتخار حسین نے مزید کہا کہ نشتر ال کی دوبارہ کھولنے کی منظوری سینیٹر حاجی عدیل سینیٹر نے دی تھی اور ایک کروڑ روپے دیئے تھے۔ اے این پی کے دور حکومت میں کتابوں پر پابندیاں تھیں، پشتو کی کتابوں پر تو پابندی انتہائی زیادہ تھی، مشران جیل میں تھے، پختون شاعری اگلی نسل تک نہیں پہنچ سکتی تھی اگر پہنچتی بھی تھی تو بہت مشکل سے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو کہتا ہوں کہ ایک دوسرے کو برداشت کرنا سیکھیں۔ اس میں ملک کی بھلائی ہے۔ آج ایک کی حکومت ہے تو کل دوسرے کی۔ہم اپنا دور گزار چکے ہم سے پہلے بھی لوگ حکومت میں رہ چکے ہیں۔ یہ آنی جانی چیز ہے۔ ادارے قومی امانت ہیں یہ تو خوش قسمتی ہے کہ وقتی طور پر ہم کو حوالے ہو جاتے ہیں۔ ہم نہیں ہونگے یہ موجود ہونگے۔ اداروں کی اپنی اہمیت ہے اسی لیے ان کو اہمیت دینی چاہیے۔میاں افتخار حسین نے آخر میں شاعرہ کلثوم زیب کو کتابوں کی رونمائی پر مبارکباد پیش کی۔