پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردارحسین بابک نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت مرکز سے بقایات کی وصولی میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے،وزیراعظم بجلی کے خالص منافع سمیت دیگر بقایاجات کی خیبرپختونخوا کو ادائیگی سے انکار کرچکا ہے۔ صوبائی وسائل پر اختیار اٹھارویں ترمیم کے ذریعے اے این پی نے حاصل کیا جو اب نظر نہیں آرہا، آئینی حقوق کی بات کرنیوالوں کو یہاں غدار قراردیا جاتا ہے۔ ایبٹ آباد کے جلال بابا آڈیٹوریم میں ہفتہ باچاخان کے مناسبت سے منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے سردارحسین بابک نے کہا کہ موجودہ حکومت صوبائی وسائل مرکز اور دوسرے صوبوں کی جھولی میں ڈال چکا ہے جبکہ اپنے صوبے کے عوام فاقہ کشی پر مجبور ہوچکے ہیں۔ گیس ہمارے صوبہ کی پیداوار ہے جو پنجاب کے مختلف علاقوں میں تو دستیاب ہے لیکن اپنے اس ضلع اور علاقے میں بھی دستیاب نہیں جہاں اس کی پیداوار ہورہی ہے۔ایک روپیہ 15پیسے سے پیدا ہونیوالی اپنی بجلی بھی خیبرپختونخوا کو دستیاب نہیں۔ ناروالوڈشیڈنگ اور کم وولٹیج کے ساتھ یہی سستی بجلی مہنگے داموں واپس یہاں کے عوام کو فراہم کی جارہی ہے۔ سردارحسین بابک کا کہنا تھا کہ آئینی تقاضا یہ ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ہر تین مہینے بعد منعقد ہونا چاہیے لیکن تبدیلی سرکار نے ایک سال کے دوران صرف ایک بار انعقاد کیا جس میں بھی کوئی فیصلے نہیں کیے گئے۔ مرکزی کے ذمہ واجب الادا بقایاجات کی عدم ادائیگی کی وجہ سے خیبرپختونخوا معاشی بدحالی کا شکار ہے۔ صوبہ بھر میں 150سے زائد فلورملز بند پڑے ہیں جبکہ مہنگائی، ٹیکسوں میں اضافہ، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی بے تحاشا اضافہ کیا جاچکا ہے۔صوبہ بھر کے علاقوں میں بدامنی ایک بار پھر سراٹھاچکی ہے جبکہ تبدیلی سرکار میڈیا اور دیگر اداروں کو کنٹرول کرنے میں لگے ہوئے ہیں تاکہ سچ عوام تک نہ پہنچ سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں آزادی کی تعریف بدلی جاچکی ہے، میڈیا پر مکمل پابندیاں عائد کی جاچکی ہے، کوئی صحافی اپنی مرضی کی خبر یا آرٹیکل نہیں چھاپ سکتا، موجودہ نظام کو کوئی ذی شعور فرد جمہوریت نہیں کہہ سکتا۔ اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں مساجد،بازاروں،گھروں اور ہر فرد کی جان و مال محفوظ نہیں۔ اس ملک میں ایک فرد کیلئے نظام بنایا گیا جبکہ جمہوری طرز حکومت میں فرد نظام کے تابع ہوتا ہے، نظام کو فرد کے تابع نہیں بنایا جاسکتا۔ ضم اضلاع کے حوالے سے سردارحسین بابک کا کہنا تھا کہ انضمام کے بعد این ایف سی ایوارڈ میں تین فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ ابھی تک این ایف سی ایوارڈ کا اجراء نہیں کیا گیا، انضمام کے بعد کوئی ترقیاتی عمل نہ ہونے کی وجہ سے ضم اضلاع کے عوام میں بھی بے چینی پائی جارہی ہے ۔