پشاور(پ ر) باچا خان ٹرسٹ اینڈ ریسرچ سنٹر کے زیر اہتمام ہفتہ باچاخان 2020ء کے مناسبت سے مزید کتابیں شائع کردی گئی ہیں۔ مشہور ماہر تعلیم ڈاکٹرخادم حسین کے لکھے ہوئے “عدم تشدد ”مفکورہ او تگلارہ“ اور ”ژبہ، قام او ادب“ کے نام سے شائع شدہ دو کتابیں اور عظیم سیاستدان خان عبدالولی خان کی جانب سے لکھی گئی باچا خان کی زندگی اور خدائی خدمتگاری پر لکھی گئی معرکتہ الآرا کتاب ”باچاخان او خدائی خدمتگاری“ بھی پندرہ سال بعد دوبارہ چار جلدوں میں چاپ دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ نوجوان لکھاری اور سکالر خان زمان کاکڑ کی لکھی گئی کتاب ”پشتنی لید لوری“ اور فرمان الدین بخشالی کی زندگی اور خدمات پر مبنی دو کتابیں بھی باچا خان ریسرچ سنٹر نے شائع کی ہیں۔ مذکورہ دونوں کتابیں پہلے ہی سے دکانوں پر دستیاب ہو چکی ہیں اور دنیا کے کونے کونے میں پھیلے ادب اور تاریخ کے ساتھ شغف رکھنے والے پشتونوں کے دلوں میں جگہ پیدا کر چکی ہیں۔ باچا خان ٹرسٹ اینڈ ریسرچ سنٹر بہت تیزی کے ساتھ ایک ایسا پلیٹ فارم بنتا جا رہا ہے جہاں نوجوانوں کو اپنی ثقافت، تاریخ، ادب اور اپنی زبان کے بارے میں لکھے گئے کتابوں، مجلوں اور تحقیقاتی مقالوں پر مبنی کتابیں دستیاب ہیں جو کہ ان کے پیاس کو بجھانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ باچا خان ٹرسٹ ریسرچ سنٹر ادبیات، سماجیات، سیاسیات، زبان اور روایات کو تنوع بخشنے کے لئے بھی موقع فراہم کر رہا ہے۔ باچاخان مرکز نے ان شاعروں اور ادیبوں کی بھی لاتعداد کتابیں شائع کی ہیں جو کہ اپنی کتابوں کے اشاعت سے قاصر تھے۔ باچاخان مرکز میں اپنی ایک ایسی دکان بھی ہے جس میں کہ مختلف موضوعات پر لکھی گئی قیمتی کتابیں بارعایت دستیاب ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اس سنٹر نے باچاخان، خدائی خدمتگاری اور باچاخان کے عظیم ساتھیوں کی زندگی، خدمات اور کارناموں پر مبنی بے شمار اوراق اور دستاویزات بھی ضائع ہونے بچائے ہیں۔ باچاخان ریسرچ سنٹر کے محققین ایسے دستاویزات کو مختلف جگہوں سے جمع کرکے پشتونوں نوجوانوں کی رہنمائی اور ان کی تاریخ کو محفوظ بنانے کے لئے ان کو محفوظ بنا رہے ہیں۔ باچا خان ٹرسٹ کے ڈائریکٹر ایمل ولی خان کے مطابق بہت جلد ایسی کئی کتابیں منظر عام پر آرہی ہیں جو اس خطے کی سیاست، بیانیے اور روایات پر روشنی ڈالتے ہوئے نوجوان لکھاریوں، ریسرچ سکالرز اور ناقدین کے کام آئیں گے۔ بہت سی کتابیں قارئین کو عشروں پیچھے لے جا کر باچاخان کی جد و جہد، پشتونوں کی جغرافیائی اہمیت اور پشتون روایات سے روشناس کرا سکے گی۔ سال 2006 میں باچاخان مرکز میں قائم ہونے والے باچاخان ٹرسٹ اینڈ ریسرچ سنٹر نے اب تک 100 سے زیادہ کتابیں چھاپی ہیں۔ ان کتابوں میں زیادہ تر باچاخان کی زندگی، خدائی خدمتگار تحریک، ولی خان کی سیاست اور شخصیت، تحقیقی مقالے، ڈائریاں، پروفائلز، ادب، خواتین کی خدمات، اور دوسری مختلف سماجی اور سیاسی پہلووں پر مشتمل ہیں۔ اس سنٹر کا بنیادی مقصد تاریخی دستاویز، آپ بیتیاں، ڈائریاں اور لوگوں کی یادداشتوں کو محفوظ کرنا، کتاب کے ساتھ لوگوں کے ذوق کو زندہ رکھنا اور لوگوں کو باچاخان کی تحریک، خدمات اور عدم تشدد کے نظریے سے روشناس کرانا ہے۔ ان تمام خدمات کے ساتھ ساتھ اسی ریسرچ سنٹر نے باچاخان کی بے مثال آپ بیتی ”زما ژوند او جد و جہد“ اور سیاسی حقائق پر مبنی خان عبدالولی خان کی معرکۃ الآرا کتاب ”حقائق حقائق ہیں“ کئی دفعہ ہزاروں کی تعداد میں شائع کی جا چکی ہیں۔ اس کے ساتھ باچاخان کے ساتھیوں کی زندگیوں کو بھی کتابی شکل میں پیش کیا جا چکا ہے۔ کسی بھی تردد کے بغیر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ باچاخان مرکز اپنے اس تحقیقی سنٹر کی مدد سے لاکھوں نوجوانوں کی اپنی تاریخ، ادب، ثقافت اور سیاست کے میدان میں آبیاری کر رہا ہے۔