پشاور( پ ر)اے این پی کے مرکزی صدر اسفندیارولی خان نے محسن داوڑ اورسمیت دیگر پختونوں کی گرفتاری کو حکومت کی آمرانہ پالیسی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کیا پختون اپنے حقوق کیلئے آواز نہیں اٹھائیں گے، اپنے حقوق کیلئے پرامن احتجاج کرنیوالوں کو گرفتار کیا جائیگا؟ اپنے حق کیلئے آواز اٹھانے والوں کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کرنیوالے پختونوں کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔ پختونوں کے ساتھ روا رکھا جانیوالا رویہ ملک کیلئے خطرناک ثابت ہوگا۔ دہشتگردی نے پختونوں کے معاش اور اقتصاد کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے، اب سلیکٹڈ حکومت پختونوں کو دیوار سے لگانے میں مصروف ہیں۔ پرامن احتجاج ہر فرد کا حق ہے او یہ حق آئین پاکستان ہر شہری کو دیتا ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی ان ناانصافی اور پختونوں کے ساتھ روا رکھنے والا دوسرے درجے کے شہری کے رویے کو نہ صرف مسترد کرتی ہے بلکہ ہر فورم پر اسکے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے جمہوریت اور آئین کا مذاق بنایا ہوا ہے، عمران خان مسلسل ثابت کررہے ہیں کہ وہ ایک کٹھ پتلی وزیراعظم ہے، اے این پی پختون قوم کی نمائندہ جماعت کے حیثیت سے پختونوں کے مسائل سے الگ تلگ نہیں رہ سکتی۔ اے این پی سربراہ کا کہنا تھا کہ پختونوں کے دانشوروں، علماء ،سیاسی کارکنان، تجارت پیشہ افراد اور حتیٰ کہ حجروں اور جرگوں کے مشران کو ایک طرف دہشتگردنشانہ بنارہے ہیں اور دوسری طرف سلیکٹڈ حکمران پختونوںپر زمین تنگ کررہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت اس جابرانہ اور آمرانہ رویے کے نتائج سے بے خبر ہے۔حکومت کو واضح کرنا چاہیے کہ پختونوں کے خلاف روا رکھا جانیوالا رویہ کے پیچھے کیا محرکات ہیں۔ پختون انتہائی مشکلات اور مسائل کے شکار ہیں، ان حالات کو دیکھتے ہوئے حکومت کس کے اشارے پر پختونوں میں اشتعال پیدا کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اے این پی ہر اس اقدام کی ہر فورم پر شدید مذمت کرتی رہے گی جو بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہو۔ آئین پاکستان میں ہر شہری کیلئے بنیادی حقوق متعین کیے گئے ہیں جس سے کسی کو بھی محروم نہیں کیا جاسکتا۔