پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و خیبرپختونخوا اسمبلی میں ڈپٹی اپوزیشن لیڈر سردارحسین بابک نے کہا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد تعلیم کا محکمہ مکمل طور پر صوبائی معاملہ بن چکا ہے لیکن بدقسمتی سے مرکزاب بھی تعلیم کے معاملے میں مداخلت کررہی ہے، قومی اور یکساں نصاب کا اقدام یا اس بارے کوئی مشاورت آئین کی خلاف ورزی ہے جس کی اے این پی ہر فورم پر مخالفت کرتی رہے گی۔ باچاخان مرکز میں ہفتہ باچاخان کے چوتھے روز ”متبادل نصاب کی ضرورت کیوں” کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سردارحسین بابک نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی نے حقیقت میں ”خپلہ خاورہ خپل اختیار” کے نعرے کو عملی جامہ پہنایا اور اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبہ بھر کے تمام مادری زبانوں کو سرکاری حیثیت دی گئی جو پاکستان کی تاریخ میں اس سے پہلے کسی نے نہیں کی۔ اس کے ساتھ ساتھ جن مادری زبانوں کے گرائمر اور قاعدہ موجود نہیں تھا ان تمام زبانوں کیلئے بنیادی قاعدہ اور گرائمر بنایا گیا۔ ریجنللینگویجز اتھارٹی کا قیام بھی اسی لئے عمل میں لایا گیا تھا کہ مادری زبانوں کیلئے بنیادی قاعدہ اور گرائمر بنایا جاسکے ، اسی طرح تمام مادری زبانوں کو یکساں اہمیت دی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک چالیس رکنی کمیٹی بھی بنائی گئی تھی جنہوں نے اس سلسلے میں مادری زبانوں کی ترویج ،گرائمر،قاعدہ اورنصاب کے حوالے سے بیش بہا کام کیا۔ سردارحسین بابک نے کہا کہ آج بھی بدقسمتی سے نصاب کے کتب میں پشتونوں کی تاریخ اور ثقافت کے ساتھ نہ صرف خیانت کی جارہی ہے بلکہ یہ ایک تاریخی جبر ہے کہ پورے ملک میں یکساں نصاب تعلیم کی بات ہورہی ہے۔ تعلیم صوبائی معاملہ ہے اور ہر صوبے کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی الگ تعلیمی پالیسی بنائے جس میں مادری زبانوں کی اہمیت اور ان کے نصاب کو اپنے صوبے اور یہاں کے عوام کے مطابق بنایا جاسکے۔ اے این پی کے دورحکومت میں پانچ زبانوں کی کتابیں ،سکرپٹ، قاعدہ،گرائمر اور تاریخ مکمل کی گئی تھیں لیکن بدقسمتی سے تحریک انصاف کی حکومت کے آتے ہی اس تمام معاملے کو دبایا گیا اور سات سال گزرجانے کے باوجود مادری زبانوں کے حوالے سے کوئی کام نہیں کیا گیا۔2013ء میں پی ٹی آئی حکومت کے آتے ہی ریجنل لینگویجز اتھارٹی کے پورے منصوبے کو معطل کردیا گیا۔انہوں نے وعدہ کیا کہ اے این پی حکومت میں آتے ہی پہلا کام مادری زبانوں کی ترویج اور ریجنل لینگویجز اتھارٹی کی جانب سے مرتب کردہ سفارشات پر عملدرآمد کرائے گی۔