پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین نے کہا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی پارلیمنٹ کی بالادستی کیلئے روز اول سے جدوجہد کررہی ہے اور یہ کوششیں حقیقی جمہوریت کی بحالی اور پارلیمنٹ کی سپرمیسی کیلئے جاری رہے گی۔ اے این پی اپنی اصولی سیاست کی راہ میں کئی مشکلات کا سامنا کرچکی ہے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ سیاسی کارکنان کی قربانیوں ہی کی وجہ سے اس ملک میں جمہوری روایات زندہ ہیں۔ باچاخان اور ولی خان کی کوششوں سے ہمیں آزادی ملی اور اسکے بعد اس ملک کو آئین دیا گیا جس میں تمام افراد کو مساوی حقوق دیے گئے۔ اس بار پورے صوبے میں باچاخان اور ولی خان کی برسیوں کے موقع پر عظیم الشان جلسے منعقد ہوں گے جس کا آغاز نوشہرہ سے ہوگا۔ باچاخان مرکز پشاور میں نوشہرہ، پشاور، چارسدہ، مردان، صوابی اور مومند اضلاع کے صدور و جنرل سیکرٹریز ، پی ایس ایف ، این وائی او اور دیگر ذیلی تنظیموں کے عہدیداروں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میاں افتخارحسین نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کسی بھی صورت میں اصولوں اور جمہوری روایات پر سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ مشرف کے خلاف فیصلہ کی تائید سب سے پہلے اے این پی نے کی لیکن کچھ مخالفین کو ہمارا اصولی مئوقف اس وقت نظر نہیں آیا۔افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آرمی چیف توسیع بارے ایکٹ کے معاملے پر کچھ سیاسی جماعتوںکے بغیر مشاورت فیصلوں اور سولو فلائیٹ کی وجہ سے اپوزیشن کا اتحاد اس طرح نظر نہیں آیا جس طرح اسے سے پہلے کے معاملات میں رہا ہے۔ہم آج بھی متحدہ اپوزیشن کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں کو ہم سلیکٹڈ کہتے ہیں اور کہتے رہیں گے۔ انہیں اقتدار دلوایا گیا ہے، یہ عوامی نمائندے نہیں۔ہم تمام امور میں پارلیمنٹ کو سپورٹ کرتے رہیں گے لیکن موجودہ حکومت سے متعلق ہمارے تحفظات ابھی بھی موجود ہیں۔ یہی ہمارا ہدف اور سیاسی نظریے کی بنیاد ہے۔ جمہوریت پسند قوتوں کی بڑی جیت ہر معاملے کو پارلیمنٹ کے فلور پر لانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی سپرمیسی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا، گذشتہ انتخابات پر تحفظات ہیں اور رہیں گے کیونکہ اے این پی 2018ء کے انتخابات کو صاف اور شفاف نہیں مانتی اور ان انتخابات کے نتیجے میں اقتدار میں آنیوالی جماعت کو اس عوام پر مسلط کیا گیا ہے۔آرمی چیف کی توسیع ایک انتظامی معاملہ تھا لیکن اب آئینی طریقہ کار کو اپنایا جارہا ہے تو ہر سیاسی جماعت کے پاس اختیار ہے کہ وہ اس قانون سازی پر اپنی رائے دے۔عوامی نیشنل پارٹی اختیارات کو پارلیمنٹ کے سپرد کرنے کیلئے ہی جدوجہد کررہی ہے۔میاں افتخارحسین نے کہا کہ آرمی چیف کے توسیع کے معاملے پر عدالت کا فیصلہ بھی پارلیمنٹ کی بالادستی کی عکاس ہے ،اب یہ پارلیمنٹیرینز کی ذمہ داری ہے کہ وہ پارلیمانی طریقہ کار کو سامنے رکھ کر موجودہ مسئلے کا حل نکالیں۔اختیارات پارلیمان کو منتقل کرنے کیلئے جدوجہد ایسی حالت میں بھی جاری رکھنی پڑتی ہے جب جمہوریت ایک برائے نام سی چیز رہ جاتی ہے ۔