پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے ٹانک کے ڈپٹی کمشنر کمپائونڈ کے سامنے جاری محسود قبیلے کے دھرنے پر حکومتی خاموشی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پانچ روز سے جاری احتجاجی کیمپ میں حکومتی رویہ احساس محرومی مزید بڑھائے گی۔مظلوم عوام کے مطالبات کی منظوری کی بجائے انہیں احتجاج پر مجبور کیا جارہا ہے جو بدامنی سے متاثرہ عوام سے زیادتی اور ظلم ہے۔ باچاخان مرکز پشاور سے جاری کردہ بیان میں اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ انضمام کے بعد نئے اضلاع کی جانب حکومتی رویہ شرمناک اور غیرسنجیدہ ہے اور ایک سازش کے تحت وہاں کے عوام کو انضمام کے ثمرات سے نہ صرف محروم کیا جارہا ہے بلکہ اس عمل سے بدظن کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔ انتظامیہ اور حکومت ٹانک میں جاری دھرنے کے شرکاء کے مطالبات کیلئے ہنگامی اقدامات کریں۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ میرانشاہ بازار کے تاجرین نے بھی صوبائی اسمبلی کے باہر احتجاج کیا لیکن وہاں بھی کوئی حکومتی نمائندہ ان سے ملنے نہیں آیا۔ اے این پی ضم اضلاع کے عوام کے حقوق کیلئے ہر فورم پر جنگ لڑتی رہے گی اور اس سلسلے میں 18فروری کو ”ضم اضلاع کانفرنس” باچاخان مرکز پشاور میں منعقد ہوگی جس میں تمام سٹیک ہولڈرز کو شرکت کی دعوت دی جارہی ہے۔ اس کانفرنس میں وہاں کے عوام اور سٹیک ہولڈرز سے مسائل پر تفصیلی گفتگو ہوگی اور مسائل کے حل کیلئے مشترکہ لائحہ عمل طے کیا جائیگا۔اے این پی ضم اضلاع کے عوام کے حقوق کیلئے ہر فورم پر جنگ لڑتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن راہ نجات کے متاثرین ٹانک میں بیٹھے ہیں لیکن حکومتی ترجیحات کچھ اور نظر آرہی ہیں۔ بدامنی سے متاثرہ عوام کو مطالبات کی منظوری کیلئے احتجاج پر مجبور کیا گیا،اس بارے ہنگامی اور جنگی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ ضم اضلاع کیلئے صرف بیانات اور اعلانات کیے جارہے ہیں لیکن عملی اقدامات نظر نہیں آرہی۔ حکومت ضم اضلاع کیلئے اعلان کردہ فنڈز فوری طور پر جاری کرے تاکہ وہاں ترقیاتی کام کیے جاسکیں۔ اسی طرح این ایف سی ایوارڈ کا عدم اجراء اس پورے صوبے کے عوام کے ساتھ زیادتی ہے، نئے این ایف سی ایوارڈ میں صوبہ اور بالخصوص نئے اضلاع کے انضمام کے بعد حصہ میں مزید اضافہ ہوگا۔ مرکزی حکومت صوبے کے بقایا جات کے ساتھ ساتھ نئے اضلاع کی ترقی کیلئے این ایف سی ایوارڈ کے فوری اجراء کو یقینی بنائے۔